The news is by your side.

Advertisement

آدھی دنیا نے بیل آؤٹ مانگ لیا

واشنگٹن: عالمی مالیاتی فنڈ کی سربراہ کرسٹالینا جورجیوا کا کہنا ہے کہ عالمی معاشی بدحالی کے باعث آدھی دنیا نے بیل آؤٹ مانگ لیا ہے۔

امریکی ٹی وی سی این بی سی کے پروگرام میں اظہارخیال کرتے ہوئے آئی ایم ایف چیف نے کہا کہ کورونا وبا جیسی ہنگامی صورتحال پہلے کبھی نہ تھی۔

انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال خراب گورننس یا غلطیوں کے باعث نہیں آئی یہی وجہ ہے صورتحال کو دیکھتے ہوئے بہت تیزی سے فنڈ فراہم کر رہے ہیں۔

آئی ایم ایف چیف کا کہنا تھا کہ تاریخ میں پہلی بار وبائی ماہرین بھی اقتصادی ماہرین کی طرح ہمارے لئے اہم ہیں ،ہمیں امید ہے کہ سائنسدان ہمیں مایوس نہیں کریں گے۔

عالمی مالیاتی فنڈ کی سربراہ کرسٹالینا جورجیوا نے بتایا کہ آدھی دنیا نے کورونا وائرس کے باعث لاک ڈاؤن اور معاشی بدحالی کی وجہ سے بیل آؤٹ مانگا ہے تاہم ہماری کوشش ہے کہ فنڈرز کی فراہمی کے مرحلے کو تیز تر کریں اور جلد سے جلد فنڈز فراہم کریں۔

واضح رہے کہ ترقی یافتہ ممالک کےگروہ جی ٹوئنٹی نےپاکستان سمیت 76 ممالک پرواجب الادا قرضے مؤخرکرنےکی منظوری دے دی ہے ، ان ممالک پر رواں سال یکم مئی سےاکتیس دسمبرتک واجب الادا قرضے مؤخر کئے گئے ہیں۔

جی ٹوئنٹی کے اعلامیہ کےمطابق اس اسکیم کے تحت منسوخی رواں سال یکم مئی سےاکتیس دسمبرتک کے قرضوں کی گئی، یہ ادائیگیاں اب جون 2022 سے 2024 کےدرمیان کرنا ہوں گی۔

قرضوں کی ادائیگی کومؤخرکرنےکامقصد ترقی پذیرممالک کی کوروناکی وباسےپیداہونےوالےصحت اورمعاشی بحرانوں سے نمٹنےمیں مددکرناہے نیٹ یہ سہولت ان ممالک کوملے گی جوعالمی بینک کی انٹرنیشنل ڈیویلپمنٹ ایسوسی ایشن کے تحت قرضوں میں ریلیف کےاہل ہیں۔ ان ممالک میں پاکستان بھی شامل ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں