حرمین ٹرین منصوبہ، سعودی خواتین مردوں‌ کے شانہ بشانہ -
The news is by your side.

Advertisement

حرمین ٹرین منصوبہ، سعودی خواتین مردوں‌ کے شانہ بشانہ

جدہ: سعودی حکومت کی جانب سے شروع ہونے والی حرمین ٹرین سروس کے منصوبے میں مقامی خواتین نے بھی اپنا کردار ادا کرنا شروع کردیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی حکومت کی جانب سے شروع ہونے والی حرمین ٹرین سروس کا آغاز 25 اگست 2018 کو ہوا، جس کے بعد  مقامی خواتین نے بھی ملازمتیں حاصل کرنے کے لیے انتظامیہ کو درخواستیں دیں۔

رپورٹ کے مطابق مکہ  سے مدینہ اور جدہ اور رابغ کے درمیان سے گزرنے والی ٹرین سے روزانہ سیکڑوں شہری اور زائرین استفادہ کررہے ہیں۔

ٹرین کے مختلف اسٹیشنوں پر ٹکٹ کے حصول، رابطوں کے مراکز، معلومات اور بکنگ سمیت دیگر امور کے لیے لگائے جانے والے سیکشنز میں مقامی خواتین نے ڈیوٹی دینا شروع کردی۔

مزید پڑھیں: سعودی عرب: شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے حرمین ٹرین کا افتتاح کردیا

آپریشن ڈیپارٹمنٹ میں ملازمت حاصل کرنے والی انجینیئر ماجدہ ٹیکنالوجی سمیت تمام امور پر نہ صرف نظر رکھتی ہیں بلکہ تن دہی سے اپنی ڈیوٹی ادا کررہی ہیں۔

اسی طرح مدینہ منورہ کے حرمین اسٹیشن پر ڈیوٹی کرنے والی جابر نامی خاتون مسافروں کی خدمت، اُن کو ٹکٹوں کی فراہمی اور آگاہی دینے کے پر مامور ہیں اس کے علاوہ دیگر خواتین بھی یہاں امور انجام دے رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی خواتین اب جہاز بھی اڑائیں گی

حرمین ٹرین منصوبے کے ڈائریکٹر جنرل انجینئر محمد فدا کا کہنا تھا کہ ’سعودی خواتین اب ریلوے کے مختلف شعبوں اور منصبوں میں اپنی ذمہ داریاں خوش اسلوبی سے انجام دے رہی ہیں‘۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں