The news is by your side.

Advertisement

نام وَر نقّاد اور افسانہ نگار محمد حسن عسکری کی وفات

18 جنوری 1978ء اردو کے نام ور نقّاد محمد حسن عسکری کا یومِ وفات ہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد ہجرت کرکے لاہور آئے اور کچھ عرصے بعد کراچی میں سکونت اختیار کرلی جہاں ایک مقامی کالج میں انگریزی ادب کے شعبے سے وابستہ ہوگئے اور کراچی میں علمی و ادبی کاموں اور سرگرمیوں میں مصروف رہے۔

محمد حسن عسکری 5 نومبر 1919ء کو الٰہ آباد میں پیدا ہوئے۔ 1942ء میں الٰہ آباد یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں ایم اے کیا جہاں انھوں نے فراق گورکھپوری اور پروفیسر کرار حسین جیسے اساتذہ سے استفادہ کیا۔

محمد حسن عسکری نے بطور ادیب ماہ نامہ ساقی دہلی سے اپنا سفر شروع کیا تھا۔ اس رسالے میں عسکری صاحب کی پہلی تحریر انگریزی سے ایک ترجمہ تھا جو 1939ء میں شائع ہوا۔ اس کے بعد کرشن چندر اور عظیم بیگ چغتائی پر ان کے دو طویل مضامین شایع ہوئے۔ 1943ء میں انھوں نے یہ کالم لکھنے کا آغاز کیا جس کا عنوان جھلکیاں تھا۔

ان کا شمار اردو کے اہم افسانہ نگاروں میں بھی کیا جاتا ہے۔ ان کے افسانوں کا پہلا مجموعہ ’’جزیرے‘‘ 1943ء میں شائع ہوا تھا۔ 1946ء میں دوسرا مجموعہ ’’قیامت ہم رکاب آئے نہ آئے‘‘ شایع ہوا جب کہ تنقیدی مضامین ’’انسان اور آدمی‘‘ اور ’’ستارہ اور بادبان‘‘ کے نام سے شایع ہوئے۔ ان کی دیگر کتب میں ’’جھلکیاں‘‘ ، ’’وقت کی راگنی‘‘ اور ’’جدیدیت اور مغربی گمراہیوں کی تاریخ کا خاکہ‘‘ شامل ہیں۔

بحیثیت نقّاد اردو ادب کے علاوہ عالمی افسانوی ادب پر ان کی گہری نظر تھی۔ انھوں نے فرانسیسی ادب سے اردو تراجم کیے جو ان کی زبان و بیان پر گرفت کا ثبوت ہیں۔ ایّامِ زیست کے اواخر میں انھوں نے مفتی محمد شفیع‌ صاحب کی قرآن مجید کی تفسیر کا انگریزی میں ترجمہ شروع کیا جس کی ایک جلد ہی مکمل ہوسکی۔

محمد حسن عسکری کراچی میں دارالعلوم کورنگی میں آسودۂ خاک ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں