The news is by your side.

Advertisement

امریکا عائد پابندیاں ختم کردے تو مذاکرات کی بحالی کے لئے تیار ہیں، حسن روحانی

تہران : ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ اگر امریکا ایران کے خلاف عائد پابندیاں ختم کردے تو ہم مذاکرات کی بحالی کے لئے تیار ہیں، یہ صورتحال مخالفین کے اُکسانے کے سبب پیدا ہوئی ہے۔

یہ بات انہوں نے سرکاری ٹیلی وژن پر نشر ہونے والے اپنے خطاب میں کہی، حسن روحانی کا کہنا تھا کہ پہلے ظالمانہ پابندیاں ختم کی جائیں پھر مذاکرات کی باری آئے گی۔

انہوں نے کہا کہ ہم لائحہ عمل کے تحت، امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی، روس اور چین سے مذاکرات کے لئے تیار ہیں۔ یورپی ممالک 2015ء کے ایٹمی معاہدے پر ایران کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کیلئے دباؤ ڈال رہے ہیں لیکن معاہدے سے امریکہ کے دستبردار ہونے کے بعد یہ سلسلہ تعطل کا شکار ہے۔

حسن روحانی کا مزید کہنا تھا کہ یہ مذاکرات پانچ جمع ایک کے سربراہان کی سطح تک بھی ہو سکتے ہیں، ایرانی صدر نے ایران کے خلاف امریکی پابندیوں کی وجہ اسرائیل اور سعودی عرب کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم پابندیوں کی زد میں ہیں یہ صورتحال صیہونیوں اور علاقائی مخالفین کے اُکسانے کے سبب پیدا ہوئی ہے۔

انہوں نے ان پابندیوں کو وائٹ ہاؤس کا ظالمانہ اقدام قرار دیا۔ ایرانی صدر کے بقول، ہمارے پاس کوئی اور راستہ نہیں ہے سوائے مزاحمت اور بچاؤ کے۔ مگر ساتھ ہی ہم نے مذاکرات کی کھڑکی بند نہیں کی۔

خیال رہے کہ سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان اور جرمنی کے ساتھ ہی 2015ء میں ایران کا جوہری معاہدہ طے پایا تھا۔امریکا کی طرف سے اس جوہری معاہدے سے یکطرفہ علیحدگی کے بعد سے یورپی ممالک اسے بچانے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں اور ان کی کوشش ہے کہ اس سلسلے میں مذاکرات کا سلسلہ شروع ہو سکے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں