The news is by your side.

Advertisement

برصغیر کے قادرالکلام شاعر حسرت موہانی کی آج 70 ویں برسی ہے

چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے
ہم کو اب تک عاشقی کا وہ زمانہ یاد ہے

اردو شاعری میں کلاسک کی حیثیت رکھنے والے اس غزل کے خالق حسرت موہانی کی آج 70 ویں برسی ہے۔

آپ کا اصل نام سید فضل الحسن جبکہ تخلص حسرت، قصبہ موہان ضلع انائو میں 1875پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام سید اظہر حسین تھا، ابتدائی تعلیم گھر پر ہی حاصل کی۔ 1903ء میں علی گڑھ سے بی۔اے کیا۔ شروع ہی سے شاعری کا ذوق تھا۔ اپنا کلام تسنیم لکھنوی کو دکھانے لگے۔ 1903ءمیں علی گڑھ سے ایک رسالہ ”اردوئے معلی“ جاری کیا۔

اسی دوران شعرائے متقدمین کے دیوانوں کا انتخاب کرنا شروع کیا۔ سودیشی تحریکوں میں بھی حصہ لیتے رہے ۔حسرت پہلے کانگریسی تھے۔ گورنمنٹ کانگریس کے خلاف تھی۔ چنانچہ 1907میں ایک مضمون شائع کرنے پر جیل بھیج دیئے گئے۔

ان کے بعد 1947تک کئی بار قید اور رہا ہوئے۔ اس دوران ان کی مالی حالت تباہ ہو گئی تھی۔ رسالہ بھی بند ہو چکا تھا۔ مگران تمام مصائب کو انہوں نے نہایت خندہ پیشانی سے برداشت کیا اور مشق سخن کو بھی جاری رکھا۔

قیام پاکستان سے قبل جب ہندوستان میں مسلمانوں کی حالت زار، انگریزوں کی غلامی کا دور اور اس کے بعد تحریک پاکستان کا غلغلہ اٹھا تو اردو شاعری حسن و عشق کے قصوں کو چھوڑ کر قید و بند، انقلاب، آزادی اور زنجیروں جیسے موضوعات سے مزین ہوگئی۔ غزل میں بھی انہی موضوعات نے جگہ بنالی تو یہ حسرت موہانی ہی تھے جنہوں نے اردو غزل کا ارتقا کیا۔

البتہ اس وقت کے بدلتے ہوئے رجحانات سے وہ بھی نہ محفوط رہ سکے اور ان کی شاعری میں بھی سیاست در آئی۔ وہ خود بھی سیاست میں رہے۔ پہلے کانگریس کے ساتھ تھے پھر کانگریس چھوڑ کر مسلم لیگ میں شامل ہوگئے۔

وہ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے بانیوں میں بھی شمار کیے جاتے ہیں۔انھیں قانون ساز اسمبلی کا رکن بھی نامزد کیا گیا تھا جس کے تحت ملک کا دستور ترتیب دیا گیا مگر دیگر اراکین کی طرح انھوں نے بھی اس پر دستخط نہیں کیے۔

ان کا یہ مشہور زمانہ شعر اسی دور کی یادگار ہے۔

ہے مشق سخن جاری چکی کی مشقت بھی
اک طرفہ تماشا ہے حسرت کی طبیعت بھی

علامہ شبلی نعمانی نے ایک بار ان کے لیے کہا تھا۔ ’تم آدمی ہو یا جن؟ پہلے شاعر تھے پھر سیاستدان بنے اور اب بنئے ہو گئے ہو۔‘ حسرت موہانی سے زیادہ متنوع شاعر اردو شاعری میں شاید ہی کوئی اور ہو۔

حسرت کی شاعری سادہ زبان میں عشق و حسن کا بہترین مجموعہ ہے۔ ان کی شاعری کو ہر دور میں پسند کیا جاتا ہے۔ حسرت کا شمار بیسویں صدی کے بہترین غزل گو شاعروں میں ہوتا ہے۔

بڑھ گئیں تم سے تو مل کر اور بھی بے تابیاں
ہم یہ سمجھے تھے کہ اب دل کو شکیبا کر دیا

آپ کو ’’رئیس المتغزلین‘‘ کہا جاتا ہے۔

چند تصانیف:
کلیّاتِ حسرت موہانی۔ شرحِ کلامِ غالب۔ نکاتِ سخن۔ مشاہداتِ زنداں۔

اردو غزل کو نئی زندگی بخشنے والا یہ شاعر 13 مئی 1951 کو لکھنؤ میں انتقال کر گیا۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں