spot_img

تازہ ترین

روسی صدر پیوٹن کی وزیراعظم شہباز شریف کو مبارکباد

روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے شہباز شریف کو...

امریکا وزیراعظم شہباز شریف کیساتھ مشترکہ مفادات آگے بڑھانے کا خواہاں

واشنگٹن : امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھو ملر...

وزیراعلیٰ کے پی آج اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کریں گے

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور آج اڈیالہ جیل...

الیکشن کمیشن نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کی درخواست مسترد کردی

اسلام آباد: الیکشن کمیشن نے سنی اتحاد کونسل کی...

شہباز شریف نے وزیراعظم کےعہدے کا حلف اٹھالیا

اسلام آباد : شہباز شریف نے وزیراعظم کےعہدے کا...

حسنَ البنا: مصر کے عوام کا مقبول لیڈر جسے قتل کر دیا گیا

دنیا کی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہیں‌ جن کو زندگی میں‌ بھی بھرپور عوامی پذیرائی ملی اور موت کے بعد بھی ان کی مقبولیت ایک عرصہ تک برقرار رہی اور حسن البنا انہی میں‌ سے ایک ہیں۔

بیسویں صدی میں اسلامی دنیا میں کئی تحریکوں نے جنم لیا جن کا مقصد اپنے معاشرے کو خالص اسلامی نظام میں ڈھالنا تھا۔ مصر میں ’اخوانُ المسلمین‘ وہ تنظیم تھی جس نے مسلمانوں کو دینی، سیاسی شعور دینے اور ان میں‌ مسلم ثقافت کا تصور اجاگر کرنے کے لیے بڑی سرگرمی سے کام کیا۔ اس تنظیم کی بنیاد 1928 میں مصر کے ایک 22 سالہ معلّم حسنُ البنا نے رکھی تھی۔ اس وقت عرب دنیا میں آزاد ریاستیں وجود میں آچکی تھیں۔ حسن البنا نے عالمی جنگ سے لے کر خلافتِ عثمانیہ کے بکھر جانے تک بہت سیاسی اور سماجی تبدیلیاں‌ دیکھی تھیں۔ ان کی تنظیم نے نہ صرف تعلیم یافتہ بلکہ عام لوگوں کو بھی جلد اپنی جانب متوجہ کرلیا۔ اس تحریک نے مذہب اور سیاست کو یکجا کرنے کا جو تصور دیا تھا اس سے لوگ بہت متاثر تھے۔

شیخ حسن البنا کی تاریخ پیدائش 14 اکتوبر 1906 ہے۔ وہ مصر میں محمودیہ نامی بستی میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے شیخ عبدالوہاب حصافی سے تعلیم و تربیت حاصل کی اور سنہ 1927 میں فارغ التحصیل ہونے کے بعد ایک سکول سے بطور مدرس وابستہ ہو گئے۔ اس دور میں یہ بات پھیلی کہ نہر سویز کا کنٹرول سنبھالنے والی برطانوی کمپنیاں مصری کارکنوں کے ساتھ ناانصافی کر رہی ہیں۔ حسن البنا نے طبقاتی اونچ نیچ اور برطانوی انجینئروں اور ان کمپنیوں کے یورپین منیجروں کو عالی شان اور پرآسائش مکانوں میں عیش اڑاتے دیکھا جب کہ مصری باشندے اور ان کمپنیوں‌ کے ساتھ کام کرنے والے مفلوک الحال اور کچے گھروں میں رہنے پر مجبور تھے۔ انھیں یہ بھی محسوس ہوا کہ مصر میں‌ اسلامی اقدار کو اہمیت نہیں‌ دی جارہی۔ اس نے حسن البنا کو اخوان المسلمین کی بنیاد رکھنے پر آمادہ کیا جس کا نصب العین اسلامی تعلیمات کا نفاذ اور بیرونی غلبے کے خلاف آواز بلند کرنا تھا۔ صرف چند برس بعد یہ تنظیم ملک کے طول و عرض میں پھیل گئی۔ مصر کے طول و عرض میں اخوان المسلمین کی شاخیں قائم ہوئیں‌ اور اس کے بینر تلے طلبا اور مزدوروں کو منظم کیا گیا اور عورتوں کے لیے ایک علیحدہ شعبہ قائم کیا گیا۔ اس تنظیم کے تحت مدارس قائم کیے گئے اور رفاہ عامہ کے کئی کام انجام دیے جانے لگے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ایک ایسا نظام بنایا گیا جس کے تحت تنظیم کے کارکن بہترین مسلمان بن سکیں۔ اس کے علاوہ حسن البنا نے اسلامی حکومت کے قیام اور اسلامی قوانین کے نفاذ کا مطالبہ کردیا۔ رسائل اور اخبارات کے ساتھ مختلف موضوعات پر کتابچوں کے ذریعے انھوں نے اپنے اغراض و مقاصد کی پُر زور تبلیغ کی اور اسلام کو راہ نما مذہب ثابت کیا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب حسن البنا نے عملی سیاست میں حصہ لینا شروع کیا۔ سنہ 1936 میں انھوں نے مصر کے بادشاہ اور دیگر عرب حکمرانوں سے ایک خط کے ذریعے اسلامی نظام کے نفاذ کا مطالبہ کیا۔ اس کے دو سال بعد انھو‌ں نے مصر سیاسی اصلاحات کے ساتھ مصر پر برطانوی تسلط کے خلاف عوام کو صف آرا کردیا۔ حسن البنا نے سنہ 1948 میں فلسطین سے برطانیہ کے انخلا کے بعد جہاد فلسطین میں عملی حصہ لیا اور اخوان رضا کاروں نے بھی مقابلے میں شجاعت کا مظاہرہ کیا۔ اس سے اخوان کی مقبولیت میں بے انتہا اضافہ ہوا۔ 1948 میں مصری حکومت نے تنظیم کے خلاف برطانوی دباؤ پر آپریشن شروع کر دیا اور اس کے ہزاروں کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا۔

اس کے تین ہفتے بعد مصر کے وزیراعظم نقراشی پاشا کا قتل ہو گیا اور کہا جاتا ہے کہ اسی کی جوابی کارروائی میں 12 فروری 1949 کو حسن البنا بھی ایک نامعلوم قاتل کی گولی کا نشانہ بن گئے۔ شہادت کے وقت ان کی عمر صرف 43 برس تھی۔

Comments

- Advertisement -