امریکہ میں ایک اور مسلم خاتون مذہبی نفرت کا نشانہ بن گئی -
The news is by your side.

Advertisement

امریکہ میں ایک اور مسلم خاتون مذہبی نفرت کا نشانہ بن گئی

امریکی ریاست وسکونسن کے شہر ملواکی میں ایک افسوس ناک حادثہ پیش آیا جہاں کسی شدت پسند نے اسکارف پہنے پر مسلم خاتون کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔

تفصیلات کے مطابق یہ دل دہلا دینے والا سانحہ اس وقت پیش آیا جب مذکورہ خاتون فجر کی نماز ادا کرکے پیدل اپنے گھر جارہی تھیں۔

نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر خاتون نے امریکی میڈیای کو دیے انٹرویومیں کہا ہے کہ ’’ وہ گھر جارہی تھیں جب یہ سانحہ پیش آیا‘ ایک گاڑی آکر رکی اور اس میں سے اترنے والے شخص نے مجھے روکا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر منتخب ہونے کے بعد نفرت انگیز واقعات میں زبردست اضافہ

خاتون کا کہنا تھا کہ ’’اس شخص نے مجھ سے مطالبہ کیا کہ میں اپنا اسکارف اتاردوں‘ میں نے مزاحمت کی کوشش کی لیکن اس شخص نے مجھے زمین پر گرادیا اور جانوروں کی طرح تشدد کا نشانہ بنایا‘‘۔

سانحےکا شکار ہونے والی مسلم خاتون نے اپنی روداد سناتے ہوئے کہا کہ ’’اس نے میرا اسکارف کھینچ کر اتارا اور مجھے اٹھا کردیوار پر دے مارا‘‘۔ خاتون کادعویٰ ہے کہ نامعلوم حملہ آور نے کئی بار ان کا سر دیوار سے ٹکرایا جس کے سبب وہ لہولہان ہوگئیں۔

حملے کے بعد خاتون کسی طرح ہمت جتا کر گھر واپس آئیں جہاں سے ان کے اہل خانہ فی الفور انہیں اسپتال لے گئے۔ اسپتال میں انہیں ایک دن داخل رہنا پڑا۔

اسکارف سے خود کو پھانسی لگا لو

علاقے کی اسلامی کمیونٹی کے رہنما اور وکیل منجد احمد کا کہنا ہے کہ ’’یہ حملہ مذہبی منافرت کی بنا پر کیا گیا ‘ ہمیں اپنی برادری کی سیکیورٹی کے لیے تشویش لاحق ہوگئی ہے‘‘۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’خاتون کی تمام تر اشیا اس کے پاس موجود ہیں‘ حملہ آور نے نہ کچھ چھینا اور نہ ہی کوئی چیز ساتھ لے کر گیا لہذا یہ لوٹ مار کا واقعہ نہیں ہے‘‘۔

مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ ’’تاحال واقعے کی تفتیش جاری ہے اور ابھی تک پولیس نے اس حملے کے شبے میں کسی کو بھی حراست میں نہیں لیاگیا ہے‘‘۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں