The news is by your side.

Advertisement

’میگھن مارکل نے خودکشی کا فیصلہ کرلیا تھا‘ : شاہی خاندان کے اہم فرد کا انکشاف

برطانیہ کے شاہی خاندان سے علیحدگی اور شاہی حیثیت سے دست بردار ہونے والے ہیری نے انکشاف کیا ہے کہ میگھن نے خودکشی کا فیصلہ کرلیا تھا۔

دماغی صحت سے متعلق دستاویزی سیریز کے لیے اوپرا ونفرے کو انٹرویو دیتے ہوئے برطانوی شاہی خاندان کے سابق شہزادے نے بتایا کہ ’جب میگھن  6 ماہ کی حاملہ تھی تو ایک رات اُس نے مجھے بتایا کہ وہ خود کو مارنا چاہتی ہے‘۔

ہیری نے بتایا کہ میگھن شادی کے بعد پیش آنے والے واقعات اور صورت حال سے بہت تنگ آگئی تھی، اس لیے اُس نے خودکشی کا فیصلہ کیا تھا، جس کو میں نے بہت مشکل سے روکا۔

ہیری نے بتایا کہ ’آرچی کی پیدائش سے قبل جب ہمیں البرٹ ہال میں شاہی تقریب میں بطور مہمان خصوصی جانا تھا، اُس سے ایک رات قبل ہیری نے خود کشی کی فیصلہ کیا تھا‘۔

مزید پڑھیں: پرنس ہیری نے نئے انکشافات کر دیے

اس انٹرویو کے ایک اور حصے میں ہیری نے انکشاف کیا کہ وہ  والدہ کے انتقال کے بعد وہ شراب اور منشیات کی لت میں مبتلا ہو گئے تھے۔

انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ بتایا کہ 20 ویں دہائی کے آخر اور 30 ویں دہائی کے اوائل میں شاہی زندگی کے دباؤ سے نمٹنے کے لیے جدوجہد کی، اس پریشانی سے نمٹنے کے لیے کثرت سے شراب نوشی کی، اور منشیات کا استعمال بھی کیا۔

انہوں نے کہا کہ ’مجھے والدہ کے ساتھ پیش آئے واقعات کا بہت دکھ اور غصہ تھا، موت کے کئی سال بعد تک شاہی محل میں آس پاس لوگ مختلف تبصرے کرتے تھے، یہ صورت حال میرے لیے بہت تکلیف دہ تھی‘۔

پرنس ہیری نے بتایا کہ والدہ کی وفات کے بعد شاہی خاندان نے انھیں مکمل نظر انداز کردیا تھا، بلوغت کی عمر میں بھی ان پر شدید گھبراہٹ اور بے چینی کے حملے ہوتے رہے، 28 سے 32 سال کے درمیان کا عرصہ ایک ڈراؤنے خواب کی طرح گزرا۔ انھوں نے بتایا کہ میگھن سے تعلقات منظر عام پر آتے ہی ٹیبلائڈ پریس کی جانب سے ان کا تعاقب کیا گیا جبکہ بہت سارے لوگوں نے ہراساں بھی کیا۔

یہ بھی پڑھیں: ہیری اور میگھن کے انٹرویو پر طوفان کھڑا ہوگیا

اسے بھی پڑھیں: شاہی محل میں رہنے کے دوران خودکشی کرنا چاہتی تھی: میگھن مرکل کا تہلکہ خیز انٹرویو

ہیری کا کہنا تھا کہ ’میرا اور میگھن کا پیچھا کیا گیا، ہماری تصاویر بغیر اجازت سوشل میڈیا اور اخبارات کے سرورق پر شائع کی گئیں، ایسی صورت حال میں خاندان آگے ضرور آیا مگر شادی کے بعد کسی نے بھی کوئی مدد نہیں کی،  ہم نے چار سال برطانیہ میں رہ کر امور انجام دینے کی کوشش کی مگر ناکامی کا سامنا رہا، جس کے بعد دست برداری کا فیصلہ کیا‘۔

Comments

یہ بھی پڑھیں