The news is by your side.

Advertisement

سیہون میں حضرت لعل شہبازقلندر کے 766 ویں عرس کا آغاز

سیہون : حضرت لعل شہبازقلندر کے 766 عرس کی تقریبات کا آغاز ہوگیا، عرس کے موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق صوفی بزرگ حضرت لعل شہبازقلندرکا سات 766واں عرس شروع ہوگیا، وزیراعلی سندھ کے معاون خصوصی برائے اوقاف سید غلام شاہ جیلانی نے درگاہ پر چادر اور فاتحہ خانی کر کے عرس کا باقاعدہ آغاز کیا۔

عرس میں ملک بھر سے آئے زائرین کی آمدورفت جاری ہے، کوئی عقیدت کے پھول چڑھارہا ہے توکوئی چادر جبکہ روایتی دھمال بھی ہوتا رہا۔

عرس کے موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئےہیں، ڈپٹی کمشنر کا کہنا ہے کہ شہر بھر میں دو سو سے زائد سی سی وی کیمرے نصب، ساڑھے چار ہزار پولیس اور رینجرز کے اہلکار متعین کئےگئےہیں۔

سالانہ عرس میں اس سال بیس لاکھ زائرین کی آمدمتوقع ہے جبکہ عرس کی تقریبات آٹھ مئی تک جاری رہےگا۔

وزیرداخلہ سندھ سہیل انورسیال بھی سیہون شریف پہنچے اور درگاہ شہبازقلندر پر حاضری دی اور پھول چڑھائے، ایس ایس پی پرویز عمرانی نے عرس کی سیکیورٹی پر بریفنگ دی۔

وزیرداخلہ سندھ سہیل انورسیال کا کہنا تھا کہ خواتین کے کانوں سے بالیاں اتارنے کا نوٹس لیا ہے، لیڈیزاہلکاروں کو لیڈیز پورشن میں تعینات کیا، درگاہ اور گردو نواح میں سی سی ٹی وی نصب ہیں۔

خیال رہے کہ حضرت عثمان مروندی المعروف لعل شہباز قلندر کا عرس ہر سال اٹھارہ شعبان کو شروع ہو کر اکیس شعبان تک جاری رہتا ہے۔

سیہون میں شدید گرمی سے بچاؤ کیلئے زائرین کیلئے محکمہ اوقاف اور حکومت سندھ کی جانب سے ہیٹ اسٹوک کیمپ بھی لگائے گئے ہیں۔

ﺣﻀﺮﺕ ﻟﻌﻞ ﺷﮩﺒﺎﺯ ﻗﻠﻨﺪﺭؒ کا سفر زندگی


عظیم صوفی بزرگ حضرت لعل شہباز قلندرؒ کی ولادت 538 ہجری کوآذر بائیجان کے گاؤں مروند میں ہوئی۔ آپ کانام سید عثمان رکھا گیا مگر بعد میں آپ نے لعل شہباز قلندر کے نام سے دنیا میں شہرت پائی۔

شہباز قلندر میں صوفیوں والی بے چینی ہمہ وقت موجود تھی اور صوفی سفر کرتا ہےکائنات کے اسرار جاننے کی دھن میں اس لیے قلندر بھی سفر پر نکلے۔

آپ کے ہم عصر اولیا کرام میں حضرت شیخ بہاالدین زکریا ملتانیؒ(نقشبندی سلسلے کے بانی)، بابا فرید الدین مسعود گنج شکر:(فریدی سلسلے کے بانی)،حضرت جلال الدین سرخ بخاریؒ شامل ہیں، آپ چاروں دوستوں کی طرح تھے  تاہم آپ ان چاروں میں سب سے کم عمر تھے۔

آپ چاروں سہروردی سلسلے کے بانی پیر طریقت شیخ شہاب الدین سہرودری کی خدمت میں حاضری کے لیے بغداد روانہ ہوئے، نصف شب کو پہنچے، شیخ شہابؒ نے حضرت عثمان بن مروند  کو خلوت میں بلایا، ان سے خدمت لی، سینے سے  لگا کر علم منتقل کیا اور انہیں لعل شہباز قلندرؒ بنادیا، بعدازاں باری باری تینوں اولیا کرام کو بلایا اور اپنی تصنیف عوارف المعارف(تصوف کی شہرہ آفاق کتاب) کا درس دیا اور مراتب سے نوازا۔

بابا فریدؒ کے حکم پر لعل شہبازؒ منگھوپیر بابا سے ملنے کراچی تشریف لائے اس وقت یہ جگہ غیر آباد تھی، آپ کا مسکن ندی کنارے تھا۔

لعل شہاز قلندرؒ ندی سے آپ کے گھر تک مگرمچھ پر سفر کرکے گئے، بعدازاں لعل شہبازؒ کے چند خلفا منگھوپیر بابا کی خدمت میں آئے تو وہ بھی اپنے پیرو مرشد شیخ لعل شہبازؒ کی تقلید میں مگر مچھ پر سواری کرکے گئے بعدازاں وہ سارے مگر مچھ منگھوپیر بابا کے مزار پررہ گئے اور انہیں وہاں کے مجاوروں نے باقاعدہ خوراک دی، ان ہی مگرمچھوں کی نسل کے مگر مچھ آج تک مزار کے احاطے میں موجود ہیں۔

آپ کا وصال21 شعبان المعظم 673 ہجری میں ہوا۔

لعل شہباز قلندرؒ بابا فریدؒ کا بہت احترام کرتے تھے، بابا فریدؒ نے لعل شہباز قلندرؒ کو سیہون شریف بھیجا اور سو خلفا آپ کے ماتحت کیے اور آپ سہون کے ہوگئے۔

سہون شریف میں دور سے نظر آتا سنہری گنبد اس عظیم ہستی کی آخری آرام گاہ ہے جو امن اور محبت کا پیغام لیے مروند سے چلا اور سفر کرتا ہوا سندھ دھرتی پہنچا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں