The news is by your side.

Advertisement

اسلامی اسکالرطارق رمضان پر جنسی ہراسگی کے الزام میں فرد جرم عائد

پیرس : آکسفورڈ یونیورسٹی میں کلیہ اسلامی اور شعبہ عصر حاضر کے مذاہب کے پروفیسر، معروف اسلامی اسکالر طارق رمضان پر خاتون کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزام میں فرد جرم عائد کردی گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق دو خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزام میں پیرس کی جیل میں قید پروفیسر طارق رمضان پر جمعہ کے روز فرد جرم عائد کردی گئی ہے تاہم انہوں نے الزامات کی کھلے الفاظ میں تردید کی ہے۔

ذرائع کے مطابق پیرس کی عدالت میں تین رکنی ججز کے بنچ نے اس حساس مقدمے کی سماعت کی جس کے دوران پروفیسر طارق رمضان کے وکلاء نے ضمانت کی درخواست بھی دائر کی تاہم اس پر فیصلہ موخر کردیا گیا چنانچہ انہیں مزید ایک ہفتے جیل میں رہنا ہوگا۔

دورانِ سماعت 45 سالہ نومسلمہ فرانسیسی خاتون نے اپنا بیان قلم بند کراتے ہوئے جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام عائد کیا، خاتون کا طارق رمضان سے بالمشافہ ملاقات اور بعد ازاں اسکائپ پر گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے کہنا تھا کہ میں ان سے مختلف امور پر رہنمائی لیا کرتی تھی اور اسی دوران پروفیسر طارق رمضان نے مجھے شادی کی پیشکش بھی کی اور اسکائپ پر عارضی نکاح کا وعدہ بھی کیا۔

خاتون نے اپنے بیان میں مزید بتایا کہ مذہبی اسکالر طارق رمضان نے لیون میں اسلامو فوبیا اور فلسطین کے موضوع پر ہونے والی ایک کانفرنس میں مجھے بھی مدعو کیا تھا جہاں پہلی مرتبہ بالمشافہ ملاقات ہوئی تاہم لاؤنج میں گفتگو کے دوران انہوں نے مجھے کمرے میں چلنے کو کہا اور وہاں مجھ پر جنسی حملہ کیا۔

نو مسلمہ فرانسیسی خاتون کی جانب سے عدالت میں قلم بند کرائے گئے کوئی ساڑھے تین گھنٹے پر محیط بیان کے موقع پر طارق رمضان کے وکلاء یاسین بوذر اور جولی گرینیر اور متاثرہ عورت کا وکیل ایرک موریان بھی موجود تھے۔

غیرملکی میڈیا کے مطابق پروفیسر طارق رمضان نے عدالت کے سامنے مذکورہ خاتون کے بیان کی تردید کرتے ہوئے بیان پر دستخط کرنے سے انکار کردیا تاہم انہوں نے خاتون سے پسندیدگی اور شادی کے وعدے کااعتراف اور ہوٹل میں ملاقات کے وقت مصافحہ و گلے ملنے کا اعتراف کیا۔


 اسی سے متعلق : معروف اسلامی اسکالر پروفیسر طارق زیادتی کے الزام میں گرفتار


خیال رہے کہ طارق رمضان کے خلاف جنسی ہراسانی کا ایک اور مقدمہ 2017 کے آخر میں انسانی حقوق کی نمائندہ کارکن ہندہ عیاری نے دائر کیا تھا جسے طارق رمضان نے یکسر مسترد کرتے ہوئے اُن کی شہرت کو نقصان پہنچانے کی مذموم کوشش قرار دیا تھا۔

یاد رہے انسانی حقوق کی کارکن اور نومسلمہ فرانسیسی خاتون کی جانب سے شکایات درج کرانے کے بعد پروفیسر طارق رمضان جو کہ اسلامی تنظیم اخوان المسلمون کے بانی حسن البنا کی صاحبزادی وفا البنا کے صاحبزادے بھی ہیں کو یکم فروری کو حراست میں لیا تھا

پروفیسر طارق رمضان نے سوئٹزرلینڈ میں ہی گریجویشن کی اور پھر فلسفہ اور فرانسیسی ادب کی تعلیم حاصل کی جس کے بعد عربی اور مطالعہ علوم اسلامی کی تعلیم جامعۃ الازہر سے حاصل کی اور درس و تدریس کو اپنا اوڑنا بچھونا بنایا، وہ عراق پر اتحادی فوجوں کے حملے کے سخت ناقد بھی تھے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں