The news is by your side.

Advertisement

اہم حکومتی ادارے کی کارکردگی صفر، فیصلہ ہوگیا

اسلام آباد: 63 ایکڑ پر مشتمل حکومتی ادارہ ہیوی الیکٹریکل کمپلیکس کی فروخت سے متعلق بڑی خبر سامنے آئی ہے۔

ذرائع کے مطابق ہیوی الیکٹریکل کمپلیکس میں کام مکمل طور پر ٹھپ ہوچکا ہے اور اس کی مد میں 88 کروڑ 30 لاکھ سےزائدنقصان ہونےکا انکشاف ہوا ہے، یہ انکشاف سینیٹر شمیم آفریدی کی زیر صدارت سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کا اجلاس میں کیا گیا۔

سیکرٹری نجکاری نے حکام کو بتایا کہ ہیوی الیکٹریکل کمپلیکس نے50کروڑ کا قرض بھی اداکرنا ہے،ہیوی الیکٹریکل کمپلیکس کے اڑھائی سو ملازمین ادارے پربوجھ ہیں، جبکہ نجکاری کمیشن حکام نے بتایا کہ ہیوی الیکٹریکل کمپلیکس نے گزشتہ سال کوئی ٹرانسفارمر بھی نہ بنایا، ہیوی الیکٹریکل کمپلیکس نے گزشتہ سال کوئی ٹرانسفارمر بھی نہ بنایا۔

، نجکاری کمیشن حکام کا کہنا تھا کہ ہیوی الیکٹریکل کمپلیکس کو مکمل فروخت کر دیا جائے گا، 7میں سے6کمپنیاں ہیوی الیکٹریکل کمپلیکس کی نجکاری کیلئے اہل ہیں جبکہ ہیوی الیکٹریکل کمپلیکس کی ریزرو پرائس کابینہ کی نجکاری کمیٹی میں زیرغورہے۔

واضح رہے کہ وفاقی کابینہ کی کمیٹی برائے نجکاری (سی سی او پی)نے ہیوی الیکٹریکل کمپلیکس کے 96.6 فیصد حصص کے فروخت کے اسٹرکچر کی منظوری دے چکی ہے۔

یاد رہے کہ حکومت نے2021ءمیں جناح کنونشن سنٹر,ہیوی الیکٹریکل کمپلیکس,پاکستان سٹیل مل,بلوکی اورحویلی بہادرشاہ پاورپلانٹس کی نجکاری کافیصلہ کیاتھا،تین سالوں میں 47 اداروں کی نجکاری ہوگی۔

نیسپاک,پاکستان ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن (پی ٹی ڈی سی),سوئی نادرن وسدرن گیس اوریوٹلٹی سٹورکارپوریشن بھی فہرست میں شامل ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں