The news is by your side.

Advertisement

آئین شکنی کیس، فیصلہ رکوانے کیلئے حکومتی درخواست پر سیکرٹری قانون کل ذاتی طور پرطلب

اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی کیس کا فیصلہ روکنے کی حکومتی درخواست پر سیکرٹری قانون کل ذاتی طور پرطلب کرلیا اور وزارت قانون سے ریکارڈ منگوالیا۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں آئین شکنی کیس کا فیصلہ روکنے کے لیے حکومت اور سابق صدر کی درخواستوں پر سماعت ہوئی، جسٹس اطہرمن اللہ کی سربراہی میں تین رکنی لارجربینچ نے  سماعت کی، جسٹس عامرفاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی بینچ کا حصہ تھے۔

سماعت میں سابق صدر کے وکیل نے کہا  پرویز مشرف کادفاع کرنےکےحق سےمحروم کیاگیا، 19 نومبر 2019 کاخصوصی عدالت کافیصلہ معطل کیا جائے۔

وکیل وزارت داخلہ کی جانب سے پرویزمشرف کیس کا فیصلہ روکنےکی استدعا کرتے ہوئے کہا گیا  نئی پراسیکیوشن ٹیم کی تعیناتی تک خصوصی عدالت کوفیصلےسےروکاجائے، خصوصی عدالت کافیصلہ محفوظ کرنےکاحکم معطل کیاجائے۔

پرویز مشرف کے وکیل نے عدالت کے سامنے بولنے کی کوشش کی توچیف جسٹس ہائیکورٹ اطہر من اللہ نے استفسار کیا آپ کون ہیں؟  جس پر وکیل نے جواب میں کہا  میں پرویز مشرف کا وکیل سلمان ہوں، چیف جسٹس ہائیکورٹ کا کہنا تھا کہ آپ بیٹھ جائیں، آپ کی لوکس اسٹینڈبائی نہیں۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس میں کہا ہم آپ کو بطورفریق نہیں سن سکتے، مشرف اشتہاری ہیں، آپ پیش نہیں ہوسکتے اور  پرویز مشرف کے وکیل کو دلائل سے روک دیا۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے وزارت داخلہ کے وکیل سے استفسار  کیاآپ کومعلوم ہےسپریم کورٹ نے جو ججمنٹ دیا ، آپ کو فیکٹ ہی نہیں معلوم، جس پر وکیل وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ  مجھے ابھی فائل دی گئی ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے وزارت قانون سے ریکارڈ منگوالیا  اور سیکریٹری قانون کو کل ذاتی طور  پر  طلب  کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

یاد رہے گذشتہ روز حکومت اور سابق صدر پرویز مشرف نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں آئین شکنی کیس کا فیصلہ روکنے کی درخواست کی تھی ، وزارت داخلہ کی جانب سے درخواست میں کہا گیا تھا کہ پرویز مشرف کو صفائی کا موقع ملنے اور نئی پراسکیوشن ٹیم تعینات کرنے تک خصوصی عدالت کو فیصلے سے روکا جائے اور فیصلہ محفوظ کرنے کا حکم نامہ بھی معطل کیا جائے۔

مزید پڑھیں : پرویزمشرف کیس، اسلام آبادہائیکورٹ نے بینچ تشکیل دےدیا

دوسری جانب مشرف کے وکیل درخواست میں کہا تھا کہ پرویز مشرف سے قانون کے مطابق برتاؤ کیا جائے، کیس میں انھیں دفاع کے حق سے محروم کیا گیا، مشرف شدید علالت کے باعث پیش نہیں ہوسکے، خصوصی عدالت کا فیصلہ آئین کے آرٹیکل چار اور دس اے کی خلاف ورزی ہے۔

وکیل کا مزید کہنا تھا کہ19 نومبر 2019 کا خصوصی عدالت کا فیصلہ معطل کیا جائے اور خصوصی عدالت کو فیصلہ دینے سے روکا جائے۔

یاد رہے 23 نومبر کو سابق صدر پرویزمشرف کی جانب سے خصوصی عدالت کے فیصلہ محفوظ کرنے کیخلاف عدالت سے رجوع کیا گیا تھا ، جس میں کہا گیا تھا عدالت نے مؤقف سنے بغیر کیس کا فیصلہ محفوظ کیا، کیس کی سماعت تندرست ہونےتک ملتوی کی جائےاور اور غیرجانبدارمیڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم دے۔

واضح رہے 19 نومبر کو خصوصی عدالت نے سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو 28 نومبر کو سنایا جائے گا، فیصلہ یک طرفہ سماعت کے نتیجے میں سنایا جائے گا۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں