The news is by your side.

Advertisement

شوہر نے چند سال بعد ہی چھوٹی سی بات پر بلاوجہ طلاق دی، حنا دلپذیر

کراچی : ٹی وی ڈراموں کی معروف اداکارہ حنا دلپذیر (مومو) نے انکشاف کیا ہے کہ ان کے شوہر نے شادی کے چند سال بعد ہی چھوٹی سی بات پر بلاوجہ انہیں طلاق دی تھی۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اداکارہ عفت عمر کے یو ٹیوب چینل پر ایک انٹرویو دیتے ہوئے کیا، اس موقع پر حنا دلپذیر نے پہلی بار اپنی ذاتی زندگی، کیریئر اور ڈراما انڈسٹری سمیت دیگر مسائل پر کھل کر بات کی۔

بلبلے’ اور ‘قدوسی صاحب کی بیوہ’ جیسے ڈراموں میں شاندار اداکاری سے لوگوں کے دل میں گھر کرنے والی اداکارہ حنا دلپذیر نے کہا کہ انہیں ٹھیک طرح سے یاد نہیں کہ ان کی شادی کب ہوئی، تاہم ان کا اندازہ ہے کہ 1992 میں ان کی شادی ہوئی ہوگی۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ان کی شادی ایک طرح سے پسند کی شادی ہی تھی، کیوں کہ انہیں دیکھتے ہی شوہر پسندآگئے تھے، کیوں کہ وہ عمر ہی ایسی ہوتی ہے کہ ہر کوئی دیکھتے ہی پسند آجاتا ہے۔

انہوں نے سابق شوہر کی تعریف کرتے ہوئے انہیں نیک دل اور اچھا انسان قرار دیا اور اُمید ظاہر کی کہ اب تک وہ ماضی کی طرح بہترین انسان ہی ہوں گے۔

حنا دلپذیر نے بتایا کہ انہیں شوہر نے ایک دن غصے میں آکر طلاق دے دی تھی تاہم انہوں نے غصے کی وجہ بیان نہیں کی اور بتایا کہ اس وقت تک ان کے ہاں ایک بیٹا بھی پیدا ہوچکا تھا، جس کی عمر اس وقت 3 سے 4 سال کے درمیان تھی، حنا دلپذیر کے مطابق ان کے اور ان کے سابق شوہر کے درمیان کوئی اختلافات نہیں تھے۔

اداکارہ نے یہ بھی واضح نہیں کیا کہ ان کی طلاق کس سال ہوئی، تاہم ان کی باتوں سے عندیہ ہوتا ہے کہ شادی کے چند سال بعد ہی ان کی طلاق ہوگئی تھی اور اس وقت ان کی عمر 30 سال سے کم تھی۔

کیریئر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے حنا دلپذیر نے بتایا کہ طلاق کے کئی سال بعد انہوں نے ریڈیو سے کیریئر کا آغاز کیا، جس کے بعد انہیں اداکارہ ثانیہ سعید اور ان کے شوہر کے ایک ڈرامے میں مختصر کردار کرنے کا موقع ملا اور پھر وہیں سے اداکاری کی شروعات ہوئی۔

خیال رہے کہ حنا دلپذیر نے2005 کے بعد اداکاری کا آغاز کیا تھا، انہوں نے چار درجن کے قریب ڈراموں سمیت ٹیلی فلموں اور فیچر فلموں میں بھی کام کیا ہے۔

حنا دلپذیر ریئلٹی شوز کی میزبانی بھی کرتی رہی ہیں، انہیں مزاحیہ کرداروں کی وجہ سے کافی شہرت حاصل ہوئی، تاہم وہ منفی سمیت ہر طرح کے کردار ادا کر چکی ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں