The news is by your side.

Advertisement

‘ابھی فیٹف کی گرے لسٹ سے نکلنے کا عمل شروع ہوا ، مکمل نہیں، جشن منانا قبل ازوقت ہوگا’

اسلام آباد : وزیر مملکت برائے خارجہ حناربانی کھر کا کہنا ہے کہ ابھی فیٹف کی گرے لسٹ سے نکلنے کا عمل شروع ہوا ،مکمل نہیں ہوا،جشن مناناقبل ازوقت ہوگا، امید ہے اکتوبرتک عمل مکمل کرلیا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق وزیر مملکت برائے خارجہ حناربانی کھر نے پریش کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ میں نے ایف اے ٹی ایف برلن اجلاس میں شرکت کی، اجلاس میں پاکستان کے ایکشن پلان اور عملدرآمد کاجائزہ لیاگیا، ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کی کارکردگی کو سراہا۔

حناربانی کھر کا کہنا تھا کہ ایف اےٹی ایف نے پاکستان کی شرائط پوری کرنےکی کوششوں کو تسلیم کرلیا، امید ہے پاکستان بہت جلد فیٹف کی گرے لسٹ سے نکل جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ فیٹف نے اپنی تکنیکی ٹیم کو پاکستان کے دورے کی اجازت دیدی ہے، جب کسی ملک کوگرے لسٹ سےنکالاجاتا ہے تو ٹیم کو دورے کی اجازت دی جاتی ہے ، امید ہے جلد پاکستان گرے لسٹ سے باہر ہو گا۔

حنا ربانی کھر کا کہنا تھا کہ فیٹف اجلاس کی سائیڈلائنزپرمختلف ممالک کےرہنماؤں سےملاقاتیں ہوئیں، گرے لسٹ سےنکلنے کی خبر سےپاکستان کے معاشی حالات بہتر ہوں گے ، پاکستان نے فیٹف کے مشکل اہداف کے لیے دن رات محنت کی۔

وزیر مملکت برائے خارجہ نے کہا کہ حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں،اس معاملےپرجوریاست نےکام کیاوہ قابل تعریف ہے ، پاکستان نےفیٹف کےمعاملات پرذمہ داری کا مظاہرہ کیا، فیٹف نے بھی کہا کہ پاکستان نے دہشت گردوں کی مالی معاونت کا سلسلہ روکا، مشاورت کےبعدفیٹف کی ٹیم پاکستان آئے گی، ان کو ہم اپنے اقدامات دکھائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ گرے لسٹ سے نکلنے کے اقدامات دیگر ممالک سے بھی شیئر کریں گے، یہ اختتام نہیں آغاز ہے،ہم اپنی کوششیں جاری رکھیں گے،مشکل حالات میں ہم نے ایک قوم بن کر کام کیا۔

حنا ربانی کھر نے کہا کہ ابھی جشن منانا قبل از وقت ہوگا، ابھی گرے لسٹ سے نکلنے کا عمل شروع ہوا ہے، امید ہے اکتوبرتک گرے لسٹ سے نکلنے کاعمل مکمل کرلیا جائے گا ، گرے لسٹ سے نکلنے سے معاشی حالات بہتر ہوں گے۔

وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ خوشی ہے ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو کلیئر کردیا، ہم اس پوزیشن میں ہیں دیگر ممالک کو بھی معاونت فراہم کریں گے، ہم چاہتے ہیں فیٹف غیرجانبدار رہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ جو بیت گیا سو بیت گیا ہمیں آگے دیکھنا چاہیے، ہم جانتے ہیں گرے لسٹ سے نکلنا کتنا مشکل کام تھا، ہم ان کو بھی کریڈٹ دینے کو تیار ہیں جن کو کریڈٹ چاہیے، میں کریڈٹ دوں گی تو اپنی ٹیم کو دوں گی، ہماری ٹیم پاکستان ہے اور ان تمام لوگوں کو کریڈٹ دوں گی جنہوں پیچھے رہ کر کام کیا۔

حنا ربانی کھر نے بتایا کہ پاکستان کی وزارت خارجہ نے بہت اہم کردار ادا کیا، تمام ادارے اور وزارتوں نے مل کر یہ کامیابی حاصل کی، اس معاملے کو سیاسی نہ بنایاجائے، ہمارے لیے اہم ہے کہ گرے لسٹ سے نکلنےکا عمل وقت پر مکمل ہو، ہم وہ غلطیاں نہیں دہرائیں گے جس سےاس لسٹ میں شامل ہوئے۔

بھارت کے حوالے سے وزیرمملکت کا کہنا تھا کہ پاکستان پرسیاسی دباؤ تھا، بھارت نے پاکستان کے خلاف مسلسل مہم چلائی، بھارت کو بھی 2023 میں فیٹف کو رپورٹ پیش کرنی ہے۔

انھوں نے کہا کہ گرے لسٹ سےنکلنے کے بعد دنیا میں ہمارا مثبت پیغام جائےگا اور سرمایہ کاری کے دروازے کھل جائیں گے ، جب کوئی ملک گرے لسٹ میں ہوتا ہے تو لوگ جھجکتے ہیں۔

گرے لسٹ سے نکلنے کے حوالے سے حنا ربانی کھر کا کہنا تھا کہ گرے لسٹ میں آنے اور نکلنے کاایک مرحلہ وار عمل ہوتا ہے، ہم نے گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے آخری مرحلہ عبور کرلیا، حکوئی ملک مرحلہ وار عمل کے بغیر گرے لسٹ سے نہیں نکلتا، گرے لسٹ سے نکلنے کا عمل مشکل تھا ،کریڈٹ سب کے ساتھ بانٹتے ہیں ۔

سابق حکومت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے خارجہ نے کہا کہ ایسا لگا فیٹف سےنکلنا اہم نہیں کریڈٹ لینا بہت اہم ہے، فیٹف کےمعاملے پر کریڈٹ کی بڑی ڈیمانڈ ہوگئی ہے، فیٹف سے نکلنا کسی ایک پارٹی نہیں بلکہ پاکستان کا ایجنڈا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم کوشش کر رہے ہیں ٹیم اکتوبر سے قبل اپنا کام مکمل کرکے رپورٹ جمع کرائے، ہماری ٹیم نے بہت عمدہ کام کیا اور مشکل ترین اہداف حاصل کیے، قومی اور صوبائی اداروں نے بھی اپنا کام بہترین انداز میں کیا۔

حنا ربانی کھر نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان کو ایک ذمہ دار ملک کے طور پر دیکھا جائے، یہ ایک پیچیدہ معاملہ تھا جس پر کافی وقت درکار تھا ، یہ کسی کی نہیں بلکہ پاکستان کی جنگ تھی۔

وزیر مملکت نے بتایا کہ ہم نے اور اپوزیشن کی پارلیمنٹری کمیٹیوں نے ملکر قانون سازی منظورکی، ہم چاہتے تھے کہ قانون سازی کو بلڈوزر نہ کیا جائے، جمہوری طریقہ سےقانون سازی ہو لیکن ایک ملک اس سارے عمل کو سیاسی رنگ دینے میں ملوث تھا، اس ملک کی موجودگی میں ممالک کا اتفاق رائے حاصل کرنا اہم تھا ۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم اب نہ صرف عالمی اسٹینڈرڈ کے مطابق ہیں بلکہ اس سے کافی آگےہیں، سارےعمل میں حکومت کےتمام اداروں کاعمل دخل ہوتا ہے، ایف اے ٹی ایف مکمل طور پر ایک تکنیکی باڈی ہے۔

ٹی ٹی پی سے مذاکرات کے حوالے سے حنا ربانی کھر نے کہا کہ ٹی ٹی پی سے مذاکرات پاکستان کا ایک اندرونی مسئلہ ہے ، ٹی ٹی پی سے مذاکرات کاایف اے ٹی ایف سےتعلق نہیں ، ہماری کوشش ہو گی ایف اے ٹی ایف ٹیم کے کام ک وسیاسی رنگ نہ دیا جائے۔

وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ کوشش ہےاس عمل کو اکتوبر سےقبل مکمل کیا جائے، اس عمل کو ہم خاموشی سے سرانجام دینا چاہیے ہیں، ہم نے نہ صرف اپنے وعدوں کو مکمل کیا بلکہ اپنی استطاعت سے بڑھ کر کام کیا، ہم نے اس سارے عمل کو سیاسی رنگ اختیار نہیں کرنے دیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں