The news is by your side.

Advertisement

تنازع حل؛ دیامربھاشاڈیم کی بروقت تعمیر کی راہ ہموار

وزیراعظم عمران خان نے دیامیر بھاشاڈیم پروجیکٹ کے حوالے سے دیرینہ تنازع حل ہونے کا خیرمقدم کیا ہے۔

دیامیربھاشاڈیم پروجیکٹ سے متعلق اہم پیشرفت ہوئی ہے۔ پروجیکٹ سائٹ پر گرینڈجرگےکا انعقاد کیا گیا جس ‏میں جرگے نے دیامر اور اپرکوہستان کےعمائدین کا دیرینہ مسئلہ حل کر لیا۔

تنازع حل ہونے پر وزیراعظم عمران خان نے ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہا ہے کہ دیامیر بھاشاڈیم پروجیکٹ ‏کے حوالے سے تاریخی پیشرفت خوش آئند ہے۔

وزیراعظم نے لکھا کہ تھور اور ہربن قبائل کےدرمیان ایک دہائی پرانا تنازع چل رہا تھا جس کےحل سے ‏دیامر بھاشا ڈیم کی بروقت تعمیر کی راہ ہموار ہو گی، تنازع ختم ہونےسےگلگت بلتستان اورکےپی میں حدود کا ‏معاملہ بھی حل ہو گا۔

وضح رہے کہ فیصلے میں کہا گیا کہ تنازعے میں 4 جاں بحق افراد کو 50،50 لاکھ اور زخمیوں کو 25،25،لاکھ روپے کا معاوضہ ادا کیا گیا، آئندہ چند دنوں میں گرینڈ جرگہ حدود بندی کا تعین کرنے کا پابند ہے۔

تھور ہربن حدود تنازہ میں کئی جانیں ضائع ہوئی اور لوگوں کے املاک کو نقصان پہنچا تھا، جاں بحق افراد کے لواحقین کو واپڈا میں ایک،ایک ملازمت دینے کے پابند بھی ہوں گے، گرینڈ جرگہ نے مزید ملازمتوں میں اپنی سفارشات بھی پیش کی۔

گرینڈ جرگہ کے 26ارکان کے علاوہ چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل مزمل حسین (ریٹائرڈ)، فورس کمانڈر ایف سی این اے میجر جنرل جواد احمد، جنرل منیجر لینڈ ایکوزیشن اینڈ ری سیٹلمنٹ واپڈا بریگیڈیئر شعیب تقی (ریٹائرڈ)،جنرل منیجر اینڈ پراجیکٹ ڈائریکٹر راؤ محمد یوسف اور صوبائی حکومت گلگت بلتستان کے ممبران نے شرکت کی۔

انجنیئر محمد نور خان،حاجی رحمت خالق، حاجی گلبر خان اور صوبائی حکومت خیبر پختونخواہ کے ممبر ایم پی اے دیدار خان کے علاوہ کمشنر دیامر استور ڈویژن،ڈپٹی کمشنر دیامر،ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر اپر کوہستان،اور دیامر ضلع سے تعلق رکھنے والے ایم ایل ایز، مقامی عمائدین،واپڈا کے سینئر آفیسرز اور تھور اور ہربن قبائل کے لوگوں کی بڑی تعداد تقریب میں شریک ہوئی۔

تھور ہربن گرینڈ جرگہ دونوں قبائل کے درمیان حدود کے تنازعہ کو حل کرنے کیلئے 2019ء کے آخر میں تشکیل دیا گیا تھا، گرینڈ جرگہ کے ارکان کی تعداد 26ہے جن میں سے 13 کا تعلق گلگت بلتستان کے ضلع دیامر سے جبکہ 13کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع اپر کوہستان سے ہے۔

ارکان میں اکابرین اور مذہبی علماء شامل ہیں، گزشتہ دوسال کے دوران گرینڈ جرگہ کے متعدد اجلاس منعقد ہوئے ، جس میں تنازعہ کے تمام پہلوؤں پر تفصیلی غور وخوض کیاگیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں