The news is by your side.

Advertisement

محققین کا بڑا کارنامہ، کھجور درخت کے ارتقاء سے متعلق تاریخی معلومات منظرعام پر

ابوظبی: محققین نے مصر کے قدیم محل کے آثار قدیمہ سے حاصل پتے کی باقیات سے تاریخ رقم کردی ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق ابوظہبی کی جامعہ نیویارک کے مرکز برائے جینومکس اینڈ سسٹمز بائیالوجی کے محققین نے مصر کے قدیم محل کے آثار قدیمہ سے حاصل ایک پتے کی باقیات سے کچھ کھجور درختوں کی قدیم ترین اصل ہائبرڈ نسل کا تعین کیا ہے جوکہ مشرق وسطی اور شمالی افریقہ خطے کے اس اہم درخت کے موجودہ دور میں درختوں کی افزائش میں کارآمد ثابت ہوسکتا ہے۔

جامعہ کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق اس تحقیق کے نتائج کی اشاعت ، مالیکیولر بائیلوجی اینڈ ایوولوشن کے جریدے میں کی گئی ہے۔

اسی تناظر میں دو برس قبل پہلی تحقیق بھی اسی جامعہ کی جانب سے شائع ہوئی تھی ۔،اس کے بعد ایک اور منصوبہ شروع کیا گیا تھا جس میں محققین نے پہلے قدیمی جرمینیٹڈ بیجوں کے ذریعے کھجور کے درختوں کے جینومز کا سیکوئنس بنایا تھا، جہاں جامعہ کے محققین نے برطانیہ کے رائل بوٹینک گارڈنز کے قائد محققین کے تعاون سے تقریبا 21 سو سال پرانے جینومز کا سیکوئنس بنایا ، یہ قاہری میں یونیسکو کے ایک عالمی ورثے میں شامل محل سے دریافت ہوئے تھے۔

رپورٹ کے مطابق ریڈیو کاربن کے ذریعے ان کا اندازہ قدیم مصر کے تقریبا 357 سے 118 قبل مسیح دور سے لگایا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: غوطہ خوروں نے دنیا کا ’آٹھواں عجوبہ‘ دریافت کرلیا

جامعہ نیویارک کے پروفیسر آف بائیلوجی مائیکل ڈی پورگنان کا کہنا تھا کہ یہ تحقیقی پیپر ، آثار قدیمہ سے دریافت ہونے والے پودوں کے جینومز کے بارے میں نادر معلومات و تحقیق میں سے ایک ہے، انہوں نے کہا کہ محققین کا یہ کام کھجور درختوں کے ارتقاء کی اہمیت پر روشنی ڈالتا ہے جوکہ بالخصوص شمالی افریقہ کے خطے والے درختوں سے متعلق ہے ۔

تحقیق ثابت کرتی ہے کہ بائیس سو سال قبل بھی کھجور کے درخت قدیم مصر کیلئے فینکس تھیوفراسٹی جیسی دیگر اشیاء کی طرح جینیٹک مواد جیسی اہمیت رکھتے تھے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں