The news is by your side.

Advertisement

قدیم زمانوں کے لوگ جو سر میں سوراخ کرتے تھے

قدیم زمانوں میں انسان اپنے سروں میں سوراخ کروایا کرتے تھے، اس کی وجہ نہایت حیران کن تھی۔

ماہرین آثار قدیمہ کو ملنے والی پرانی کھوپڑیوں میں بڑے بڑے سوراخ موجود تھے، پرانے دور میں جب کسی شخص کو مرگی، ڈپریشن یا میگرین کا مرض لاحق ہوتا تھا تو یہ سمجھا جاتا تھا کہ اس کے سر کے اندر جنات ہیں۔

تب مریض کے سر میں سوراخ کردیا جاتا تھا تاکہ اس سوراخ کے راستے جن نکل جائے۔

ماہرین کے مطابق یہ پریکٹس آج بھی کئی جگہ کی جاتی ہے، اگر دماغ میں خون کا پریشر زیادہ ہو تو سر میں سوراخ کر کے خون کا پریشر کم کیا جاتا ہے۔

فریز کیے گئے مردہ جسم

دنیا میں کچھ لوگ مرنے سے قبل کچھ کمپنیز سے ایک کانٹریکٹ سائن کرلیتے ہیں، 2 سے 3 لاکھ ڈالرز کے اس کانٹریکٹ کے عوض کمپنی پابند ہوتی ہے کہ وہ مذکورہ شخص کے مرنے کے بعد اس کا مردہ جسم کئی سو سال تک فریزر میں رکھے گی۔

دراصل ایسے افراد کا ماننا ہوتا ہے کہ اگلے 3 سے 4 سو سال میں جدید سائنس مردوں کو زندہ کرنے کے قابل ہوجائے گی، چنانچہ اگر ان کا جسم محفوظ ہوگا تو وہ دوبارہ سے زندہ ہوسکیں گے۔

بعض افراد جو اتنی بڑی رقم نہیں دے سکتے صرف اپنا سر بھی فریز کروا لیتے ہیں، ان کے خیال میں اگر سائنس اگلے دو سو سالوں میں مردوں کو زندہ کرسکتی ہے تو اگلے 4 سو سال میں وہ سر کے لیے دھڑ بھی بنانے کے قابل ہوجائے گی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں