تازہ ترین

اسرائیل کا ایران کے شہر اصفہان پر میزائل حملہ

امریکی میڈیا کی جانب سے یہ دعویٰ سامنے آرہا...

روس نے فلسطین کو اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت دینے کی حمایت کردی

اقوام متحدہ سلامتی کونسل کا غزہ کی صورتحال کے...

بیوٹی پارلرز اور شادی ہالز پر فکس ٹیکس لگانے کا فیصلہ

پشاور: خیبرپختونخوا حکومت نے بیوٹی پارلرز اور شادی ہالز...

چمن میں طوفانی بارش، ڈیم ٹوٹ گیا، مختلف حادثات میں 7 افراد جاں بحق

چمن: بلوچستان کے ضلع چمن میں طوفانی بارشوں نے...

ملک کو آگے لے جانے کیلیے تقسیم ختم کرنا ہوگی، صدر مملکت

اسلام آباد: صدر مملکت آصف علی زرداری کا کہنا...

ظالم باپ نے بیٹی کو قتل کرکے لاش جلادی

بھارت کی ریاست تلنگنانہ میں مبینہ طور پر باپ نے نو عمر بیٹی کو قتل کرکے لاش کو آگ لگادی‘ پوسٹ مارٹم رپورٹ نے قتل کا راز کھول دیا۔

تفصیلات کے مطابق‘ بھارتی ریاست تلنگانہ میں باپ نے اپنی 13 سالہ بیٹی کو اسکول میں ایک لڑکے سے بات کرنے پرقتل کردیا ۔

ابتدائی طور پر ظاہر کیا گیا کہ یہ خودکشی کی واردات ہے‘ لڑکی کے باپ نے خود ہی تھانے میں رپورٹ درج کرائی کہ لڑکی نے ڈپریشن کا شکار ہوکر خودکشی کرلی۔

پوسٹ مارٹم کی رپورٹ نے لڑکی کے باپ کے جھوٹ کا پول کھول دیا‘ جس میں بتایا گیا کہ لڑکی کی موت دم گھٹنے سے واقع ہوئی ہے بعد ازاں اس کی لاش کو جلایا گیا ہے‘ رپورٹ میں یہ بھی کہاگیا کہ لڑکی کی زبان باہر امڈ آئی تھی جو گلاگھونٹے جانے کی تصدیق کرتی ہے۔

مقامی تھانے کے انسپکٹر کے مطابق والد لڑکی کے والد نےمبینہ طور پر پہلے بھی کئی بار مذکورہ لڑکے سے بات کرنے سے منع کیا تھا‘ تازہ واقعے میں جب مقتولہ سے اس حوالے سے سوال کیا گیا تو اس کا کہنا تھا کہ یہ ایک معمول کی گفتگو تھی۔

لڑکی کے جواب سے والد غصے میں آگیا اور نوعمر دوشیزہ کو گلہ گھونٹ کر مارڈالا‘ جب اسے احساس ہوا کہ بیٹی مر چکی ہے اور وہ گرفتار ہوسکتا ہے‘ تو اس نے لاش پر مٹی کا تیل چھڑک کرا ٓگ لگادی۔

مزید تفتیش سے پولیس کو معلوم ہوا کہ والدین ہمیشہ اپنی بیٹی کومعاشرتی حدود میں رہنے کی تلقین کرتے رہتے تھے اور اسے ٹی وی پر موسیقی کے پروگرام سننے کی بھی اجازت نہیں تھی‘ جس کا سبب لڑکی کا گلوکارہ بننے کاشوق تھا۔پولیس نے لڑکی کے ماں باپ کو حراست میں لے کر مقدمہ درج کرلیا ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

- Advertisement -