The news is by your side.

Advertisement

بال کیوں تیزی سے جھڑتے ہیں، علاج کیا ہے؟ جانیے

ہمارے معاشرے میں خواتین کو جہاں دیگر کئی مسائل کا سامنا ہے وہاں ایک بڑے اور اہم طبی مسئلے کا بھی سامنا ہے، یہ مسئلہ ہے ہارمونز کے امبیلنس (عدم توازن) کا، معاشرے میں غیر صحت مندانہ طرز زندگی کی وجہ سے لوگوں بالخصوص خواتین میں ہارمونز کے مسائل بڑھنے لگے ہیں۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر تین میں سے ایک خاتون ہارمونز کی خرابی کا شکار ہے، موٹاپا، سینٹرل اوبیسٹی، پیٹ میں درد کی شکایات عام ہیں، ہارمونز کی وجہ سے بال بھی تیزی سے جھڑنے لگتے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ اس مسئلے سے کیسے بچا جائے؟ اس سلسلے میں اے آر وائی نیوز کے پروگرام باخبر سویرا میں اسسٹنٹ پروفیسر ڈاؤ میڈیکل یونی ورسٹی ڈاکٹر عظمیٰ حمید مفید مشورے دیتی ہیں۔

لوگوں کا لائف اسٹائل اس حد تک تبدیل ہو چکا ہے کہ نہ سونے کا کوئی وقت ہے نہ جاگنے کا، رات دیر تک جاگنے سے ہارمون کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ اسی طرح کھانے کا بھی کوئی وقت نہیں ہے، صرف یہ بات ہی نقصان دہ نہیں ہے کہ باہر کی الم غلم خوراک کھائی جائے، بلکہ کھانے کے اوقات بھی اس سلسلے میں اثر انداز ہوتے ہیں۔

کھانے کا معیار (فوڈ کوالٹی) تو سب کا متاثر ہے، جس کی وجہ سے چھوٹے بچوں میں ایسی ہارمونل تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں جن کی وجہ سے ان کی شخصیت تک متاثر ہو جاتی ہے۔ برائلر مرغی کے لیے ایک چوزے کو 45 دن میں انجیکشن لگا کر اسے مرغی بنایا جاتا ہے تو سوچیں کہ اس سے صحت پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔

خواتین میں ہارمونل مسائل بڑھنے کی وجہ کیا ہے؟ اس سلسلے میں ڈاکٹر عظمیٰ حمید کہتی ہیں کہ سب پہلے تو یہ معلوم ہو کہ ہارمونز کیا ہیں، یہ کیمیکل مسینجر ہیں جو ہمارے جسم میں مختلف غدود (گلینڈز) سے خون میں جاری ہوتے ہیں، اور یہ ہمارے سارے اعضا پر اثر ڈالتے ہیں، جب یہ امبیلنس ہوتے ہیں تو بہت سارے مسائل پیدا ہوتے ہیں، بالوں کا جھڑنا بھی انھی میں سے ایک ہے۔

انھوں نے کہا ہارمونل عدم توازن کی بہت ساری وجوہ ہیں، عورتوں میں اس کی شرح زیادہ ہے، یا تو ہارمونز زیادہ پیدا ہوتے ہیں یا بہت کم۔ ہارمونز کو بیلنس رکھنا بہت ضروری ہے۔ ہارمونز کا توازن کیوں بگڑ جاتا ہے، اس میں ہماری نیند بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اگر نیند 6 سے 8 گھنٹے نہیں ہوگی تو ہمارے ہارمونز کا توازن بگڑ جائے گا۔ خوراک بھی اہم کردار ادا کرتی ہے، کہ ہم کس وقت کھاتے ہیں، اور جو کھاتے ہیں وہ کس معیار کا ہے، اس کا بھی ہارمونز کے توازن پر اثر پڑتا ہے۔

اگرچہ ڈاکٹر عظمیٰ نے غذا کے معیار کی بات کی، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ معیار کے اس مسئلے سے کسی صورت فرار ممکن نہیں ہے، کیوں کہ اگر ہم دودھ پیتے ہیں تو بھینسوں کو ہارمون کے انجیکشن لگائے جاتے ہیں، مرغی یا گوشت کھاتے ہیں تو اس میں بھی ہارمونز والا مسئلہ ہوتا ہے، سبزیاں کھاتے ہیں تو وہ نالے کے پانی کے ذریعے اگائی ہوئی ہوتی ہیں، تو ہارمونل امبیلنس کے مسئلے سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟

اس سلسلے میں ڈاکٹر عظمیٰ حمید نے کہا کہ اس کے لیے ہمیں اپنے لائف اسٹائل کو تبدیل کرنا ہوگا، نیند ہمارے اپنے بس میں ہے، تو نیند کو پورا کرنا چاہیے، وقت پر سوئیں وقت پر جاگیں، اس کے علاوہ ورزش کو اپنی روٹین میں ضرور شامل کیا جائے، ورزش سے ہمارے جسمانی اعضا اور غدود پر بہت اچھا اثر پڑتا ہے۔ ورزش یا آدھے گھنٹے کی تیز واک کریں جس میں ہماری سانس پھول جائے۔کاربونیٹڈ مشروبات چھوڑ دیں، پروٹین لیں، تو اس سے بھی ہم اپنے ہارمونز کو بیلنس کر سکتے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں