The news is by your side.

Advertisement

جرمن چانسلر سے اختلافات کے بعد ہورسٹ زیہوفر کا مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا

برلن : جرمن چانسلر انجیلا میرکل اور وزیر داخلہ ہورسٹ زیہوفر کے درمیان تارکین کے وطن کے مسئلے پر سامنے آنے والے اختلافات میں مزید شدت آگئی، مذاکرات میں ناکامی کے بعد وزیر داخلہ اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کو تیار ہوگئے۔

تفصیلات کے مطابق جرمنی کے وزیر داخلہ اور حکمران پارٹی کی قدامت پسند اتحادی جماعت کرسچن سوشل یونین (سی ایس یو) کے صدر ہورسٹ زیہوفر نے اتوار کی رات ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اپنے عہدے سے استفعیٰ دینے کو تیار ہوگئے ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ سی ایس یو کے صدر تارکین وطن کے معاملے پر انجیلا میرکل کی پالیسیوں کے سخت مخالف ہیں، جس کے باعث دونوں رہنماؤں کے درمیان شدید اختلافات سامنے آئے تھے۔

خیال رہے کہ گذشتہ ایک ہفتے سے ہورسٹ زیہوفر اور انجیلا میرکل کے درمیان مہاجرین کے مسئلے پر مشاورت جاری تھی تاکہ جرمنی میں برھتے ہوئے تارکین وطن کے بحران کو حل کیا جاسکے۔

فرانس کے میڈیا ذرائع کا کہنا تھا کہ انجیلا میرکل سے مذاکرات کی ناکامی اور مہاجرین سے متعلق سخت مؤقف اختیار کرنے کی وجہ سے جرمنی کے صوبے باوریا کی سیاسی جماعت سی ایس یو نے بھی ہورسٹ زیہوفر کی حمایت ختم کردی۔

خیال رہے کہ جرمنی کے وزیر داخلہ نے جرمن چانسلر انجیلا میرکل کو متنبہ کیا تھا کہ 1 جولائی تک تارکین وطن سے متعلق مشترکہ یورپی معاہدے کو عملی جامہ نہ پہنانے کی صورت میں سرحد پر موجود اور دوسرے یورپی ممالک میں پناہ کی درخواست دینے والے غیر قانونی تارکین وطن کو واپس لوٹادیں گے۔

یاد رہے کہ چند روز قبل جرمنی کی چانسلر انجیلا میرکل نے یورپی یونین کے اجلاس میں تارکین وطن سے متعلق متفقہ معاہدے کو حتمی شکل دی ہے، جس کے بعد اسپین اور یونان، جرمنی سے واپس لوٹائے جانے والے مہاجرین کو اپنے ملک میں پناہ دیں گے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ زیہوفر کو یورپی ممالک کے ساتھ ہونے والے معاہدے پر اطمئنان نہیں ہے، لہذا انہوں نے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ جس کے بعد سی ایس یو کسی اور پارٹی ممبر کو وزیر داخلہ کے لیے نامزد کرے گی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ سی ایس یو کے انجیلا میرکل کی حکومت سے علیحدگی اختیار کرنے کی صورت میں جرمن چانسلر کی حکومت مزید مشکلات کا شکار ہوجائے گی اور ممکن ہے کہ حکومت ہی ختم ہوجائے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں