The news is by your side.

حوثی ملیشیا نے اپنے ہی 31 جنگجو موت کے گھاٹ اتار دیے

صنعا: حوثی ملیشیا نے ہتھیار ڈالنے کی تیاری کرنے والے 31 جنگجوﺅں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ ملیشیا کے باغیوں نے ہتھیار ڈالنے اور خود کو حکام کے حوالے کرنے کی تیاری مکمل کرلی تھی۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق العمالقہ فورسز اور باغیوں کے درمیان 18 مارچ سے مذاکرات جاری تھے۔ یہ بات چیت تربطی کے علاقے کے ایک مقامی شہری کی معاونت سے جاری رہے۔

محاصرے میں آنے والے باغیوں نے ہتھیار ڈالنے اور خود کو حکام کے حوالے کرنے کی تیاری مکمل کرلی تھی مگر ملیشیا نے انہیں گولیاں مار کر قتل کردیا۔ العمالقہ فورسز کی طرف سے ملیشیا کے ہتھیار ڈالنے والے تمام جنگجوﺅں کو جان کے تحفظ کی یقین دہائی کروائی گئی تھی اور ان کے ساتھ بین الاقوامی قوانین کے تحت حسن سلوک کی ضمانت فراہم کی گئی مگر انہیں ہتھیار ڈالنے سے قبل ہی قتل کردیا گیا۔

دوسری جانب حوثی ملیشیا کی جانب سے سوئیڈن کی میزبانی میں الحدیدہ میں جنگ بندی کے حوالے سے طے پائے معاہدے کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ حوثی ملیشیا نے الدریہمی کے مشرقی علاقے میں بھاری توپ خانے سے حملہ کیا۔ باغیوں نے سرکاری فوج کے ٹھکانوں اور شہری آبادی پر بھاری توپ خانے کا استعمال کیا ہے۔

عرب ٹی وی کے مطابق سرکاری فوج کے ماتحت عمالقہ فورسز کی طرف سے بتایا گیا کہ جنوبی علاقے الحدیدہ کے الدریہمی شہر میں درجنوں حوثی باغیوں نے گھیرے میں آنے کے بعد ہتھیار ڈالنے کی کوشش کی جس پر حوثی ملیشیا نے اپنے ہی ساتھیوں کو گولیاں مار کر قتل کردیا۔

العمالقہ فورسز کے ترجمان وضاح الدبیش نے بتایا کہ حوثی ملیشیا نے آبار کے مقام پر اپنے جنگجوﺅں کو بددیانتی کے الزام میں گولیاں مار کر قتل کیا اور اس کے بعد انہیں ایک اسکول کے صحن میں دفن کردیا گیا۔

الدبیش کا کہنا تھا کہ العمالقہ فورسز اور باغیوں کے درمیان مذاکرات کئی روز جاری رہے۔ اس دوران ہتھیار ڈالنے والے باغیوں کو محفوظ راستے سے نکالنے کے انتظامات بھی مکمل کرلیے گئے تھے۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز عرب اتحادی فوج کی جانب سے حوثی باغیوں کے ٹھکانوں پر بمباری بھی کی گئی تھی جس کے نتیجے میں 45 جنگجو ہلاک ہوگئے، عرب اتحاد نے شمالی الضالع میں مریس کے محاذ پر جبل نصی میں باغیوں کے متعدد ٹھکانے تباہ کر دیے تھے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں