The news is by your side.

Advertisement

کروناوائرس اتنی تیزی سے دنیا بھر میں کیسے پھیلا؟ وجہ سامنے آگئی

لندن: برطانوی ماہرین کرونا وائرس کے متعدی ہونے اور دنیا بھر میں تیزی سے پھیلنے کی اہم وجہ تک پہنچ گئے، تحقیق کے دوران خاص قسم کا ‘نیوروپلین 1’ نامی پروٹین دریافت ہوا ہے۔

رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں ہونے والی تحقیق میں بتایا گیا کہ کرونا وائرس نیوروپلین 1 کو استعمال کرکے اپنی بیماری کو تیزی سے جسم میں پھیلا دیتا ہے، اسی وجہ سے وائرس نا صرف مریضوں میں جلدی پھیلتا ہے بلکہ کسی کو وائرس لگ جائے تو وہ بھی تیزی سے متاثر ہوتا ہے، یہ دنیا بھر میں وائرس پھیلنے کی ایک اہم وجہ ہے۔

یہ تحقیق طبی جریدے جرنل سائنس میں شایع ہوچکی ہے، تحقیق میں ریسیپٹر نیوروپلین 1 کو دریافت کیا گیا یہ پروٹین انسانی خلیات کی سطح پر ہوتا ہے اور وائرس اسے ہی انسانی خلیات کی سطح کی شناخت اور اندر داخل ہونے کے لیے استعمال کرتا ہے، میزبان خلیے وائرس سے پہلے متاثر ہوتے ہیں۔

پہلے مرحلے کے دوران نیوروپلین ون میزبان خلیے کو وائرس کا ہدف بناکر اس میں داخل ہونے میں مدد دیتا ہے، ایک بار جب یہ وائرس میزبان خلیات سے جڑ جاتا ہے تو وہ خلیے پر قابو پاکر اپنے جینیاتی مواد کو خارج کرکے اس سے اپنی متعدد نقول بنانے کا عمل شروع کردیتا ہے، اس طرح وائرس متعدی اور متحرک ہوجاتا ہے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل ایک تحقیق میں دریافت ہوا تھا کہ کرونا وائرس کا اسپائیک پروٹین انسانی خلیات کو جکڑنے کا کام کرتا ہے، جس کے لیے وہ ایک ریسیپٹر ایس 2 کو ذریعہ بناتا ہے لیکن اب نئی دریافت نے ماہرین کو حیران کردیا ہے۔ یہ تحقیق ماہرین کو اہم ذریعے فراہم کرے گی جس سے وائرس کو غیر متعدی کیا جاسکے گا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں