The news is by your side.

اومیکرون کیخلاف کورونا ویکسینز کتنی مؤثر؟ بڑا دعویٰ

آسٹرازینیکا اور آکسفورڈ یونیورسٹی کی کورونا کے خلاف بنائی جانے والی ویکسین گروپ کے سربراہ ڈائریکٹر ‏پروفیسر اینڈریو پولارڈ نے امکان ظاہر کیا ہے کہ دستیاب تمام ویکسینز ہی کورونا کی نئی قسم اومیکرون کے خلاف ‏بھی کارگر ثابت ہوں گی۔

بی سی سی سے گفتگو کرتے ہوئے پروفیسر اینڈریو پولارڈ نے کہا کہ اس وقت کورونا کے خلاف موجود تمام ‏ویکسینز نئی قسم اومیکرون کے خلاف مزاحمت کی صلاحیت رکھتی ہیں تاہم آئندہ چند ہفتوں کی تحقیق میں ‏اس متعلق مزید معلومات سامنے آئیں گی۔

انہوں نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر جنوبی افریقا میں سامنے آنے والی اومیکرون قسم کے خلاف نئی ویکسین کی ‏تیاری تیزی سے کی جاسکتی ہے اگرچہ کہ ویکسین شدہ علاقوں میں وبائی مرض کے دوبارہ پھیلنے کے خدشات ‏انتہائی کم ہوتے ہیں لیکن ضرورت پڑنے پر بہت تیزی سے نئی ویکسین کی تیاری ممکن ہے۔

کورونا کی نئی قسم کی علامات اور مریض کیا شکایت کررہے ہیں؟

کورونا کے خلاف ویکسین بنانے والی دیگر کمپنیوں نے بھی اس امید کا اظہار کیا ہے ان کی بنائی گئی ویکسینز ‏اومیکرون قسم کے خلاف مزاحمت کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

واضح رہے کہ جنوبی افریقا میں کویڈیو 19 کی مختلف اقسام کی جانچ کرنے والے اولین ماہرین میں شامل ڈاکٹر ‏کا کہنا ہے کہ ‏اومیکرون قسم کی علامات انتہائی ہلکی ہوتی ہیں۔

‏ ڈاکٹر انجیلیکو کوٹیزی نے بتایا کہ حال ہی میں اومیکرون قسم کے ‏کئی کیس سامنے آئے ہیں جس سے متاثرہ ‏افراد میں اس قسم کی علامات انتہائی ہلکی تھیں اور اس کا گھر پر ‏علاج بھی ممکن ہے۔

انہوں نے بتایا کہ مریضوں نے سر درد اور انتہائی تھکاوٹ والے جسم کی شکایت کی لہذا ابتدائی طور پر ہم ان ‏‏علامات کو ایک عام سے وائرل انفیکیشن سمجھے کیونکہ گزشتہ کئی ہفتوں سے کورونا وبا میں کمی آئی تھی تو یہ ‏‏فیصلہ کیا گیا کہ ان کا لیبارٹری تجزیہ کیا جائے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں