The news is by your side.

Advertisement

ماسک کورونا کا پھیلاؤ روکنے میں کتنا کارآمد؟ حقیقت سامنے آگئی

ٹوکیو: کورونا وائرس سے بچنے کے لیے دنیا بھر میں فیس ماسک کا استعمال کیا جارہا ہے لیکن ماسک کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے میں کتنے کارآمد ہیں طبی ماہرین نے تحقیق کے ذریعے پتا لگالیا۔

غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق جاپان کے محققین کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ چہرے کے ماسک وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے اور جسم میں ان کے داخلے کی مقدار کم کرنے دونوں میں کارآمد ہیں، انہوں نے اس نتیجے پر پہنچنے کے لئے اصل کورونا وائرس اور پتلوں کا استعمال کیا۔

یہ دریافت یونیورسٹی آف ٹوکیو کے انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس کے پروفیسر کاوا اوکا یوشی ہیرو اور پروجیکٹ معاون پروفیسر اویکی ہیروشی کی سربراہی میں ایک گروپ نے کی۔

اپنے تجربات میں انہوں نے دو پتلوں کو ایک تجربہ گاہ میں آمنے سامنے رکھا، ایک پتلے کو کورونا وائرس سے آلودہ بوندیں ہوا میں خارج کرنے کے لئے ڈیزائن کیا گیا تھا، دوسرے میں انسان کے سانس لینے سے مماثل نظام بنایا گیا تھا۔

ایک تجربے میں محققین نے سانس لینے والے پتلے کو ماسک پہنایا، وہ کہتے ہیں کہ اس پتلے کے اندر جذب ہونے والے وائرس کی مقدار کپڑے کے ماسک کی صورت میں 17 فیصد اور عام سرجیکل ماسک کی صورت میں 47 فیصد تک کم ہو گئی، جب انہوں نے پتلے کو مناسب سائز کا این 95 کا طبی ماسک لگایا تو اس نے وائرس کو 79 فیصد تک کم کر دیا۔

جب وائرس پھیلانے والے پتلے کو ماسک پہنایا گیا تو کپڑے اور سرجیکل دونوں ماسکوں نے بغیر ماسک والے پتلے میں وائرس داخل ہونے کی مقدار 70 فیصد سے زیادہ تک کم کردی۔

محققین نے یہ بھی بتایا ہے کہ دونوں پتلوں کو ماسک پہنانے سے وائرس کی منتقلی کو مکمل طور پر روکا نہیں جا سکا۔

پروفیسر کاوا اوکا نے کہا کہ اس سے قبل ایسی کوئی تحقیق نہیں ہوئی تھی جس میں اصلی وائرس کا استعمال کرتے ہوئے ماسک کی افادیت کا پتا لگایا گیا ہو۔ پروفیسر نے کہا کہ ماسک صحیح طریقے سے پہننا اہم ہے۔

انہوں نے مزید کہا اس امر پر آگاہی ضروری ہے کہ ماسک وائرس کو مکمل طور پر روک نہیں سکتے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں