The news is by your side.

Advertisement

کرونا مریض کتنے دن تک دوسروں کے لیے خطرناک رہتا ہے؟ ہوشربا انکشاف

واشنگٹن: امریکا میں ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ کرونا کے مریضوں میں کتنے دن تک وائرس کی دوسروں تک منتقلی کی صلاحیت رہتی ہے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق امریکا کی اوریگن ہیلتھ اینڈ سائنس یونیورسٹی اور اوریگن اسٹیٹ یونیورسٹی کی مشترکہ تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کرونا کے معتدل یا بغیر علامات والے مریض ممکنہ طور پر 10 دن تک اس بیماری کو دیگر تک منتقل کرسکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق تحقیق سے پتا چلا کہ کرونا کے معتدل یا غیر علامات والے مریض تقریباً 10 دن تک بیماری کو آگے بڑھا سکتے ہیں، یہ تحقیق طبی جریدے انفیکشن کنٹرول اینڈ ہاسپٹل ایپیڈیمولوجی میں شائع ہوئی۔

ماہرین نے اس تحقیق کے لیے مختلف تحقیقی رپورٹس کا جائزہ لیا جس سے پتلا چلا کہ وائرس کی شدت سے بھی اس کا پھیلاؤ کم یا زیادہ ہوتا ہے، اور دن کا دورانیہ بھی کم اور زیادہ ہوسکتا ہے، جو مریض کرونا کی سنگین شدت کا شکار ہوتے ہیں وہ ممکنہ طور پر 20 دن تک وائرس کو آگے منتقل کرسکتے ہیں۔

محققین کا کہنا ہے کہ متعدی یا زندہ وائرس معتدل یا بغیر علامات والے مریضوں میں صرف 9 دن تک ڈکٹیکٹ ہوسکتا ہے، جس سے مریض ممکنہ طور پر 10 دن تک اس بیماری کو دیگر تک منتقل کرسکتے ہیں۔

کیا آپ غیردانستہ طور پر کرونا کے پھیلاؤ کا سبب تو نہیں بن رہے؟ ہوشربا انکشاف

کرونامریضوں کی دیگر افراد کو متاثر کرنے سے متعلق متعدد تحقیق رپورٹس تیار کی جاچکی ہیں۔ ایک حالیہ تحقیق میں دریافت کیا گیا تھا کہ کووڈ 19 کا شکار ہونے کے بعد مریض 7 دن تک وائرس پھیلا سکتا ہے۔

یاد رہے کہ برطانیہ میں ہونے والی نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا تھا کہ کرونا کے زیادہ تر مریضوں میں علامات ظاہر نہیں ہوتیں اور مہلک وائرس کی تشخیص سے قبل وہ کئی افراد میں غیردانستہ طور پر کرونا منتقل کرچکے ہوتے ہیں۔

تحقیقی رپورٹ کے مطابق کروناعلامات ظاہر نہ ہونے پر شہری خود کو مہلک وائرس سے پاک سمجھتے ہیں، وہ اپنے آپ کو الگ تھلگ کرنے اور حفاظتی اقدامات کو بھی خاطر میں نہیں لاتے، لیکن ٹیسٹ کے بعد جب کرونا مثبت آجائے اُس وقت تک وہ کئی افراد کو مثاتر کرچکے ہوتے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں