The news is by your side.

Advertisement

کراچی میں کتنی عمارت مخدوش؟ لیاری میں بلڈنگ کیوں گری؟ اہم معلومات

کراچی: کنکریٹ کا جنگل کہلانے والے عروس البلاد کراچی میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے 2 سو سے زائد عمارتوں کو مخدوش قرار دے رکھا ہے۔

شہر قائد میں مخدوش قرار دی جانے والی عمارتوں کے حوالے سے اے آر وائی نےتفصیلات حاصل کرلیں، اس وقت 2سو سےزائدعمارتیں ایس بی سی اےنےمخدوش قراردی ہیں تاہم ان عمارتوں کوتاحال خالی نہ کرایاجاسکا۔

زیادہ ترمخدوش عمارتیں ضلع جنوبی میں موجودہیں، رنچھوڑلائن میں28عمارتوں کو ایس بی سی اےمخدوش قرار دے چکی ہے جب کہ بندر روڈ پر 6، سول لائن میں ایک، اولڈٹاؤن کوارٹرز میں 15 عمارتوں کو ناقابل رہائش قرار دیا گیا ہے۔

اسی طرح رام سوامی میں14، پریڈی اسٹریٹ پر6، لارنس کوارٹرز میں30عمارتوں، لیاری میں2، سیرائی کوارٹرز میں 9، نیپئرمیں17 اور صدرٹاؤن میں 12عمارتیں مخدوش قرار دی جاچکی ہے۔

ایس بی سی اے کی جانب سے ناقابل رہائش عمارتوں کو خالی کرانے کے نوٹسز اور سیل کیے جانے کے باوجود ان خطرناک عمارتوں میں ہزاروں لوگ تاحال رہائش پذیر ہیں جن سے ان کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

دوسری جانب لیاری میں گرنے والی 5منزلہ عمارت کی تعمیرات نےسوالات اٹھا دئیے، ایس بی سی اےنےعمارت کومخدوش قراردےکرخالی کرنےکاحکم دیا لیکن خالی نہیں کرایا۔

گرنےوالی عمارت کی تعمیرمیں ناقص میٹریل استعمال کیاگیا، عمارت میں پینٹ ہاؤس کی تعمیرکی گئی جس سےعمارت کےپلرزبرداشت نہ کرسکے، متاثرہ عمارت کےاضافی فلورزکانقشہ ایس بی سی اےسےمنظورنہیں کرایاگیا۔

لیاری میں گروانڈپلس ون اور2سےزیادہ کی اجازت نہیں لیکن اس کے باوجود ایک عمارت میں 40فلیٹ کی تعمیر ایس بی سی اےکی مجرمانہ غفلت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں