The news is by your side.

Advertisement

حکومت نے دو سال میں کتنے ارب ڈالر کا بیرونی قرض اتارا؟

اسلام آباد: وفاقی وزیر  برائے صنعت و پیداوار حماد اظہر نے اپوزیشن جماعتوں کو آئینہ دکھاتے ہوئے بتایا کہ حکومت نے 2 سال میں  10ارب ڈالر سالانہ بیرونی قرض اور پانچ ہزار ارب روپے سود کی مد میں ادا کیے۔

اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق جمعے کے روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ’ایک ٹوئٹ پرتقریریں کرنے والےجواب سننا پسند نہیں کرتے، گزشتہ20 سال میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ہی اہمیت کاحامل رہا، پی پی کے دورِ حکومت میں  ملکی مجموعی پیداوار (جی ڈی پی) منفی صفر اعشاریہ 4 تک پہنچ گئی تھی۔

حماد اظہر کا کہنا تھا کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارےسےقرضوں کاحجم بڑھ جاتاہے، مسلم لیگ ن کی حکومت ختم ہوئی تو تو جی ڈی پی5.4 فیصد پر تھی مگر  عالمی ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے پاکستان کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی تھی۔

اُن کا کہنا تھا کہ رواں سال کےپہلے3کوارٹرز میں شرح نمو 17 فیصد رہی، ہمیں امید تھی کہ 4700 ارب کا ٹیکس ہدف حاصل کر لیں گے مگر کرونا کے باعث یہ ممکن نہ ہوسکا، جوبرآمدات پر تقریریں کرتےہیں ان کے دور میں ایکسپورٹ میں تاریخی کمی آئی،عالمی اداروں نےرپورٹ شائع کیں کہ مسلم لیگ ن پاکستان کی معیشت کو تباہی کےدہانے پر چھوڑ کر گئی ہے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ’مسلم لیگ ن کی قیادت کو چینی پر بات نہیں کرنا چاہیے کیونکہ وہ خود شوگر کا کاروبار کرتی ہے، ہمیں مل کر شوگر کی صنعت میں اصلاحات لانے کی ضرورت ہے‘۔

حماد اظہر کا مزید کہنا تھا کہ معیشت پرکابینہ کو کوئی خفیہ رپورٹ پیش نہیں کی گئی،  حکومت کےتمام ادارے بجٹ بنانےکےعمل میں شامل تھے، کرونا کے اثرات کم ہونے کے بعد برآمدات میں اضافے کی امید ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں