The news is by your side.

جعلی خبروں کی تشہیر میں کتنے فیصد پاکستانی شامل ہیں؟ سروے

اسلام آباد: حالیہ سروے رپورٹ میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے 61 فیصد پاکستانی بغیر تصدیق کے کوئی بھی خبر شیئر کردیتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سری لنکا کی انفارمیشن ٹیکنالوجی کی کمپنی (لیرنے ایشیاء) نے اپنی اکتوبر تا دسمبر  2017 تک کیے جانے والے سروے کی رپورٹ جاری کی۔

رپورٹ کے مطابق سروے میں 2000 ہزار سے زائد گھروں کی تفصیلات جمع کی گئیں جس میں یہ بات سامنے آئی کہ ’دیہی علاقوں میں مقیم 69 فیصد پاکستانی انٹرنیٹ سے مکمل لاعلم ہیں’۔

سروے رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ 19 فیصد پاکستانی ایسے بھی ہیں جنہیں انٹرنیٹ کی سہولت میسر نہیں جبکہ 15 سے 65 سال کے 37 فیصد لوگ ایسے ہیں جنہیں اگر سستا انٹرنیٹ ملے تو وہ استعمال کرلیتے ہیں۔

مزید پڑھیں: سوشل میڈیا پرسب سے بڑا چیلنج ’جعلی خبریں‘ ہے

رپورٹ کے مطابق 39 فیصد پاکستانی ایسے ہیں جو عوامی مقامات پر نصب فری وائی فائی سروس کے ذریعے انٹرنیٹ استعمال کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں جبکہ 25 فیصد ایسے بھی لوگ ہیں جو انٹرنیٹ کے بل ادا کرتے ہیں۔

سروے رپورٹ کے مطابق میڈیا انڈسٹری سے وابستہ 12 فیصد لوگ ایسے ہیں جو مختلف آن لائن فارمز پر ہونے والے ہراساں کرنے کے واقعات سے واقف ہیں اور اپنی آواز بھی بلند کرتے ہیں۔

غیرمصدقہ خبریں سوشل میڈیا پر شیئر کرنے کے حوالے سے 61 فیصد پاکستانی بغیر تصدیق کے جعلی خبریں پھیلاتے ہیں جبکہ 2 فیصد لوگ ایسے ہیں جو اس کو کنفرم بھی کرتے ہیں۔

لیرنے ایشیا کی چیف ایگزیکٹو آفیسر بیلانی گلپایا کا کہنا تھا کہ ’پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی ویب سائٹ پر 15 کروڑ 20 لاکھ سے زائد موبائل صارفین رجسٹرڈ ہیں‘۔

یہ بھی پڑھیں: جعلی خبروں کی روک تھام کے لیے بنائے گئے ٹویٹر اکاؤنٹ کے نام پر جعلی اکاؤنٹ بن گیا

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایشیا کے دیگر ممالک کے مقابلے میں پاکستان قدرے بہتر ملک ہے جہاں 57 فیصد پاکستانی موبائل فون رکھتے ہیں تاہم انٹرنیٹ کی عدم آگاہی کا مسئلہ پورے ایشیا میں ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں