The news is by your side.

Advertisement

آکسفورڈ یونیورسٹی کی کرونا ویکسین کیسے کام کرے گی؟

لندن: برطانیہ نے گزشتہ روز آکسفورڈ یونیورسٹی اور برٹش ۔ سوئیڈش کمپنی ایسٹرا زینیکا کے ساتھ مل کر کرونا ویکسین چاڈ آکسل این کوو 19 کا استعمال شروع کردیا ہے۔

یہ ویکسین کرونا وائرس سے تحفظ کے لیے 70 سے 90 فیصد تک مؤثر قرار دی جارہی ہے، جس کا انحصار پہلے ڈوز کی مقدار پر ہے، بھارت نے بھی اس ویکسین کے استعمال کی منظوری دے دی ہے۔

کرونا وائرس اپنے پروٹینز یا اسپائیک پروٹین کی مدد سے انسانی خلیات میں داخل ہوتا ہے، اسپائیک پروٹینز کو ہی ویکسینز کا ہدف بنایا گیا ہے۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کی یہ ویکسین کرونا وائرس کے جینیاتی مواد پر مبنی ہے، مگر فائزر ۔ بائیو این ٹیک اور موڈرنا کی ایم آر این اے ویکسینز کے برعکس اس ویکسین کے لیے ڈبل آر این اے کو استعمال کیا گیا۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کے محققین نے کرونا وائرس کے اسپائیک پروٹین کے جین کو ایک اور وائرس ایڈنو وائرس میں شامل کیا۔

ایڈنو وائرسز موسمی نزلہ زکام یا فلو جیسی علامات کا باعث بنتے ہیں اور آکسفورڈ کی ٹیم نے ویکسین کے لیے ایک چیمپینزی ایڈنو وائرس کا تدوین شدہ ورژن استعمال کیا، جو خلیات میں داخل تو ہوسکتا ہے مگر اپنی نقول نہیں بناسکتا۔

ایڈنو وائرس پر مبنی پہلی ویکسین کی عام استعمال کی منظوری جولائی میں دی گئی تھی جو ایبولا کے لیے تیار ہوئی تھی۔

اس کے مزید کلینیکل ٹرائلز دیگر امراض بشمول ایچ آئی وی اور زیکا پر بھی کیے جارہے ہیں۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کی یہ ویکسین فائزر اور موڈرنا کے مقابلے میں زیادہ سخت جان ہے اور اس کا ڈی این اے آر این اے جتنا نازک نہیں۔ ایڈنو وائرس کا سخت پروٹین کوٹ اس کے اندر موجود جینیاتی مواد کو تحفظ فراہم کرتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اسے منجمد رکھنے کی ضرورت نہیں۔

یہ ویکسین 2 سے 8 سینٹی گریڈ درجہ حرارت پر فریج میں رکھنے پر کم از کم 6 ماہ تک کام کرسکتی ہے۔

جب اس ویکسین کو کسی فرد کے بازو میں انجیکٹ کیا جاتا ہے، ایڈنو وائرسز خلیات کی جانب بڑھتے ہیں اور ان کی سطح پر موجود پروٹینز کو للچاتے ہیں۔

اس طرح خلیات وائرس کو اپنے اندر داخل کر دیتے ہیں اور وہاں پہنچ کر یہ خلیات کے ڈی این اے محفوظ رکھنے والے حصوں میں پہنچ جاتا ہے۔

ایڈنو وائرس اپنے ڈی این اے کو اس حصے میں شامل کرتا ہے، چونکہ یہ تدوین شدہ وائرس ہے تو اپنی نقول نہیں بنا پاتا مگر خلیات کرونا وائرس کے اسپائیک پروٹین کو پڑھنے کی صلاحیت حاصل کرلیتے ہیں اور ایک مالیکیول بناتے ہیں جسے ایم آر این اے کہا جاتا ہے۔

یہ ایم آر این اے خلیات کے ڈی این اے کے حصوں میں رہ جاتا ہے اور خلیات کے مالیکیولز اس کے سیکونس کو پڑھ لیتے ہیں اور وہ اسپائیک پروٹینزز کو بنانا شروع کردیتے ہیں۔

یہ تیار ہونے والے کچھ اسپائیک پروٹینز خلیات کی سطح پر پہنچ کر وہاں ٹک جاتے ہیں جبکہ ویکسی نیٹڈ خلیات کچھ پروٹینز کو ذرات میں بدل دیتے ہیں جو سطح پر موجود رہتے ہیں۔

اسپائیک پروٹین کے یہ ذرات مدافعتی نظام شناخت کرلیتا ہے۔

ایڈنو وائرس مدافعتی نظام کو خلیات کے الارم سسٹمز کے ذریعے متحرک کرتا ہے، خلیات کی جانب سے قریب موجود مدافعتی خلیات کو متحرک ہونے کے انتباہی سگنلز بھیجے جاتے ہیں۔

اس الارم کے نتیجے میں آکسفورڈ ویکسین کے استعمال سے مدافعتی نظام اسپائیک پروٹینز کے لیے خلاف ٹھوس انداز سے ردعمل ظاہر کرتا ہے۔

جب ویکسین والے خلیات مرجاتے ہیں، تو ان کے ملبے میں اسپائیک پروٹینز اور پروٹین کے ذرات ہوتے ہیں جو ایک قسم مدافعتی خلیے اینٹی جن میں بدل جاتے ہیں۔

ان خلیات کی سطح پر اسپائیک پروٹین کے ذرات موجود ہوتے ہیں، جب دیگر خلیات یعنی ٹی سیلز ان ذرات کو پکڑتے ہیں تو وہ الارم بجاتے ہیں، تاکہ دیگر مدافعتی خلیات کو بیماری میں لڑنے کے لیے مدد مل سکے۔

دیگر مدافعتی خلیات جن کو بی سیلز کہا جاتا ہے، وہ ویکسین والے خلیات کی سطح میں موجود اسپائیک یا آزاد ہوکر تیرنے والے وائرل ذرات سے ٹکراتے ہیں۔ ان میں سے کچھ بی سیلز اسپائیک پروٹینز کو جکڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اگر ان بی سیلز کو ٹی سیلز نے متحرک یا ہو تو وہ ایسی اینٹی باڈیز خارج کرنے لگتے ہیں جو اسپائیک پروٹین کو ہدف بناتے ہیں۔

یہ اینٹی باڈیز کورونا وائرس کے اسپائیک پروٹین کو اپنی جانب للچاتی ہیں، جس کے بعد وائرس کو تباہ کرنے اور اسپائیک پروٹینز کو دیگر خلیات سے جڑنے کے عمل سے روک کر بیماری سے تحفظ فراہم کرتی ہیں۔

اینٹی جن والے خلیات میں ایک اور قسم کا مدافعتی خلیات کلر ٹی سیلز بھی متحرک ہوتے ہیں جو کرونا وائرس سے متاثر تمام خلیات کو دریافت کرکے تباہ کرتے ہیں۔

اس ویکسین کو 2 خوراکوں میں استعمال کروایا جاتا ہے جو 4 ہفتوں کے وقفے سے دی جاتی ہیں، تاکہ مدافعتی نظام کو کرونا وائرس سے لڑنے کے لیے تیار ہوسکے۔

کلینیکل ٹرائل کے دوران محققین نے غلطی سے کچھ رضاکاروں کو پہلا ڈوز آدھی مقدار میں دیا۔ حیران کن طور پر کم مقدار والے پہلے ڈوز کے ساتھ مکمل دوسرا ڈوز استعمال کرنے والے افراد میں یہ ویکسین کووڈ 19 کی روک تھام کے لیے 90 فیصد تک موثر دریافت ہوئی۔

اس کے مقابلے میں دونوں بار مکمل ڈوز استعمال کرنے والے افراد میں یہ شرح 62 فیصد تک تھی۔ چونکہ یہ ویکسین نئی ہے، اس لیے محققین کو علم نہیں کہ اس سے ملنے والا تحفظ کتنے عرصے تک برقرار رہ سکتا ہے۔

ایسا ممکن ہے کہ ویکسینیشن کے چند ماہ بعد اینٹی باڈیز اور ٹی سیلز کی شرح میں کمی آجائے، مگر مدافعتی نظام میں خصوصی خلیات ہوتے ہیں جن کو میموری بی سیلز اور میموری ٹی سیلز کہا جاتا ہے، جو ممکنہ طور پر کئی برس یا دہائیوں تک کرونا وائرس سے متعلق معلومات کو اپنی حد تک محفوظ رکھتے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں