site
stats
اے آر وائی خصوصی

عید خریداری: جیب کترے سرگرم، احتیاطی تدابیر

کراچی: عید الفطر کے قریب آتے ہی ملک بھر کے بازاروں میں خریداروں کا رش ہوگیا تو اسی دوران جیت کترے اور چور بھی عوام کو نقصان پہنچانے کے لیے سرگرم ہوگئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق رمضان المبارک کا دوسرا عشرہ شروع ہوتے ہی بازار افطار کے بعد رات گئے تک کھلنے لگے۔ اس لیےعوام کی بڑی تعداد عید الفطر کی خریداری کے لیے بازاروں کا رُخ کرنے لگےہیں۔

بازاروں میں خریداری کرنے والے اکثر افراد جیب کٹنے یا پھر سامان چوری ہونے کی وجہ سے پریشان دکھائی دیتے ہیں، مارکیٹس میں عوام کا رش بڑھتے ہی چور وں کے مختلف گروہ عوام کو لوٹنے کے لیے سرگرم ہوجاتے ہیں۔

اگر آپ خریداری کے دوران جیت کٹنے اور نقصان سے بچنا چاہتے ہیں تو چند احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے بآسانی شاپنگ کر کے محفوظ طریقے سے گھر پہنچ سکتے ہیں۔

تاجروں کا مؤقف

حیدری مارکیٹ کے تاجر فراز علی سے جب اس معاملے پر گفتگو کی گئی تو انہوں نے کہا کہ ’’چوری کا معاملہ صرف عوام کے ساتھ ہی پیش نہیں آتا بلکہ خواتین کے گروہ مختلف دکانوں پر آتے ہیں اور موقع غنیمت جان کر سامان اٹھا لیتے ہیں‘‘۔

اُن کا کہنا ہے کہ ’’شک کی بنیاد پر خواتین کو پکڑا نہیں جاسکتا تاہم جب اس طرح کا گروہ دکان پر آتا ہے تو ایک ملازم کو خاص طور پر سامان کی دیکھ بھال کے لیے مقرر کردیا جاتا ہے تاکہ قیمتی سامان کو بچایا جاسکے‘‘۔

فراز علی نے کہا کہ خریداری کرنے والی خواتین کو  چاہیے کہ اپنے ہمراہ چھوٹا پرس لائیں اور پیسے اُسی میں رکھیں تاکہ کسی بھی نقصان سے بچا جاسکے، چونکہ مارکیٹ میں رش کے باعث دھکم پیل زیادہ ہوتی ہے تو اسی دوران جیب کترے خاتون کے بیگ سے قیمتی سامان اور پیسے نکالنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں جس کا احساس بہت دیر میں ہوتا ہے۔

نفیس جبار نامی تاجر نے کہا کہ جیب کتروں اور چوروں کو روکنے کےلیے حکومتی سطح پر اقدامات کیے جانے چاہیے تاہم آپس میں دکاندار طے کر کے مشکوک خواتین پر خاص نظر رکھتے ہیں تاکہ کسی بھی نقصان سے بچا جا سکے۔

لیاقت آباد مارکیٹ میں کام کرنے والے ایک ملازم شاہد کا کہنا ہے کہ اگر شاپنگ کے دوران نقصان سے بچنا چاہتے ہیں تو دماغ کو حاضر رکھ کر بازار میں داخل ہوں اور کوشش کریں کہ رش کی جگہ پر جانے سے گریز کریں۔

عوام کیا کہتے ہیں؟

بازاروں میں خریداری کا تجربہ رکھنے اور مارکیٹ میں موجود چند لوگوں سے جب اس موضوع پر بات کرنے کی کوشش کی گئی تو انہوں نے کہا کہ ہماری پوری کوشش ہوتی ہے کہ نقصان سے بچا جائے تاہم جیب کترے اتنے شاطر ہوتے ہیں کہ ہمیں جیب سے پیسے اور قیمتی سامان نکلنے کا اندازہ تک نہیں ہوتا۔

احتیاطی تدابیر

اگر آپ چاہتے ہیں کہ دورانِ خریداری آپ کو کسی بھی قسم کا نقصان نہ کرنا پڑے تو چند احتیاطی تدابیر اپنا کر اس سے بچا جاسکتا ہے۔

بازار جاتے وقت تمام رقم ایک ہی جگہ پر نہ رکھیں بلکہ اسے حصوں میں بانٹیں تاکہ نقصان کم سے کم ہو، ایسا کرنے کی صورت میں ایک جیب سے ہی پیسے جائیں گے اور باقی پیسے بچ جائیں گے۔

بالخصوص نوجوان لڑکے اور مرد جب خریداری کے لیے نکلیں تو رقم رکھنے کے لیے اندر کوئی ٹی شرٹ یا شرٹ پہنیں اور پیسے اُسی میں رکھیں ایسی صورت میں رقم بالکل محفوظ رہے گی اور موبائل فون بھی کوشش کر کے ہاتھ میں رکھیں۔

وہ خواتین جو خریداری کے لیے بازار کا رخ کرتی ہیں انہیں پہلے تو چاہیے کہ اکیلے نہ جائیں اور اپنے ساتھ جانے والے یا والی دوسرے فرد کو پیچھے چلنے کا کہیں تاکہ اگر کوئی جیب کاٹنے کی کوشش کرے تو اُس کی فوراً نشاندہی کی جاسکے۔

خواتین اپنے ہمراہ کاندھے پر لٹکانے والے بیگ کے علاوہ ایک چھوٹا پرس ہاتھ میں رکھیں اور کوشش کر کے رقم کو اُسی میں رکھیں، خریداری کے دوران حاضر دماغی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہاتھ میں پکڑے پرس پر خاص دھیان رکھیں۔

زیادہ رش والی جگہ پر نہ جائیں کیونکہ وہاں پر گرمی اور حبس کی وجہ سے اعصاب پر بہت اثر پڑتا ہے اور مسلسل پسینے کی وجہ سے حاضری دماغی نہیں رہ پاتی جس کی صورت میں نقصان کا ندیشہ ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top