The news is by your side.

فرقہ وارانہ ہم آہنگی مشترک نظریات کے فروغ سے ممکن ہے، علما

لاہور: پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق نے پاکستان میں مذہبی رواداری کے فروغ کے کے لئے مختلف مکاتبِ فکر کے علماء درمیان ایک مکالمے کا اہتمام کیا جس میں اتفاق کیا گیا کہ مذہبی منافرت والی تقاریر کرنے والے علماء کے خلاف سخت اقدامات کئے جائیں۔

ملک میں فرقہ وارانہ امن کے قیام اور ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق کے زیر اہتمام علماء کا ایک مشاورتی مکالمہ ہوا جس میں دوسرے شہروں کے علاوہ لاہور، ملتان، کراچی، کوئٹہ، کرم ایجنسی، پشاور، پارا چنار، اکوڑہ، خٹک، کرک اور خیبرایجنسی کے چالیس سے زائد علماء نے شرکت کی۔

مکالمے کے شرکاء نے ملک میں موجودہ فرقہ وارانہ عدم مفاہمت کو عوام اور ملک کے خلاف سازش قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے فرقہ واریت کو ہوا دی جارہی ہے۔ علماء نے غیر ملکی مداخلت کے حوالے سے کہا کہ پاکستان کو دوسروں کے لیے جنگ کرنے پر مجبور کیا گیا۔

مکالمے میں دیگر افراد کے ساتھ ساتھ آغا مظہر مشہدی، احمد علی کوہزاد، علی محمد، علامہ ایم حسین عارف، علامہ صادق عباس امداد الدین، ڈاکٹر محسن نقوی، غلام ایم صادق، حسنین ترمذی، ایم عاصم مخدوم، ایم ابرار، ایم اسرار ابن مدنی، ایم اے جوزف فرانسس، مامون احمد، مولوی سلطان رئیس، مظہر حسین تاری، نورالامین، مفتی ڈاکٹر شوکت اللہ حقانی، مفتی ایم سہیل قادری، مولانا حسین احمد اعوان، مولانا ایم اسرار اللہ فاروق، قاری ایم اسماعیل، قاری ایم سلیم زاہد، صاحبزانہ عثمان علی جلالی، سلیم منصور خالد، شہزاد لارنس، صوبیا جان، سید علی رضا، سید موسیٰ حیدر زیدی، سید مجاہد عباس گردیزی شریک ہوئے۔

دارالعلوم حقانیہ کے مولانا اسرار مدنی نے کہا کہ مختلف اسلامی مسالک میں اختلافات کی نسبت قربتیں زیادہ ہیں اور ان میں بہت سی باتیں مشترک ہیں اور ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ ان کے درمیان موجود اشتراکات کو فروغ دیا جائے۔ اس سے یقینی طور پر فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ حاصل ہوگا۔

مولانا اسرار مدنی نے مزید کہا کہ شیعہ اور بریلوی مصنفین کی تحریر کردہ متعدد کتابیں پاکستان کے دیوبندی مدارس میں ابھی پڑھائی جارہی ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلامی فقہ کے تمام مکاتب فکر زیادہ تر مسائل کے بارے میں اتفاق رائے رکھتے ہیں۔ کراچی کے ڈاکٹر محسن نقوی نے کہا کہ مختلف مکتبہء فکر کے علماء سے علم کا حصول ہمارے ہاں کا عام معمول تھا اور آج جو عدم اتفاق نظر آتا ہے اس کی وجہ سیاسی ہے۔

مشاورتی مکالمے میں شرکت کرنے والے مذہبی سکالروں نے ایچ آر سی پی کے اس اقدام کو بے حد سراہا اور فرقہ وارانہ کشیدگی کے خاتمے اور مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دینے کے حوالے سے سفارشات پیش کیں۔ ان سفارشات میں کہا گیا کہ مذہبی عالم بننے کی خواہش رکھنے والوں کے لئے رائج نصابی تعلیم کو لازمی قرار دیا جائے۔ نفرت بھرے لٹریچر کے پھیلاؤ کے خلاف ریاست سخت اقدام کرے۔ اس کے علاوہ مذہبی منافرت والی تقاریر کرنے والے علماء کے خلاف سخت اقدام کیا جائے۔

حکومت اس بات کو یقینی بنائے کہ ہر شخص آزادی کے ساتھ اپنے مسلک کے مطابق زندگی گزارے اور اپنی رسومات آزادانہ طور پراداکرے۔ حکومت ،پاکستان کے اندرونی معاملات میں غیر ملکی مداخلت کو سختی سے روکے۔ حکومت مختلف مکاتب فکر کے طلبہ کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کے لئے ایک علاقے کے طلبہ کے لئے دوسرے علاقوں کے دوروں کا اہتمام کرے۔ مذہبی اداروں کا آڈٹ باقاعدگی سے کروایا جائے اور مختلف مکاتب فکرکے سکالروں کو ایک دوسرے کے مسالک کے بارے میں تحقیقی کام کو فروغ دیا جائے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں