The news is by your side.

Advertisement

چینی ٹیلی کام کمپنی ہواوے نے امریکی پابندی کے خلاف عدالت سےرجوع کرلیا

بیجنگ : چین کی معروف ٹیلی کام کمپنی ہواوے نے اپنی مصنوعات پرامریکی پابندیوں کے خلاف ٹیکساس کی عدالت میں مقدمہ دائر کردیا۔

تفصیلات کے مطابق امریکی حکومت کی جانب سے سرکاری محکموں میں ہواوے کی مصنوعات اورسازوسامان کے استعمال پر پابندی عائد کردی گئی ہے، جس کے خلاف ہواوے کمپنی کے چیئرمین گؤ پنگ نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ہواوے پر لگائے گئے تمام الزامات کو مسترد کردیا۔

گؤ پنگ نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکی حکام ہواوے پر مبینہ جاسوسی کے الزام میں پابندی نہیں لگا رہے بلکہ وہ ہواوے کو مسابقت کی دوڑ سے دور رکھنا چاہتے ہیں۔

چیئرمین ہواوے کمپنی نے کہا کہ امریکی کانگریس کے پاس ہواوے مصنوعات پر پابندی کی کوئی جائز وجوہات موجود نہیں ہیں۔

دوسری جانب امریکی حکام کا خیال ہے کہ چین کی معروف ٹیلی کام کمپنی چینی خفیہ ایجنسی کے احکامات پر عمل درآمد کرتے ہوئے اپنی مصنوعات میں ایسے آلات لگاتی ہے جن کی مدد سے امریکا کی اہم معلومات تک باآسانی رسائی حاصل کی جاسکے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ہواوے کی مصنوعات کا امریکا میں استعمال ہونا امریکا کی قومی سلامتی کے لیے خدشات کا باعث ہے۔

غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق گؤپنگ نے امریکا پر الزام عائد کیا کہ امریکیوں نے ہواوے کے سرور کو ہیک کرکے کمپنی کی اہم معلومات تک رسائی حاصل کی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ دنیا کے کئی ممالک ہواوے کے خلاف منفی اقدامات کرنے سے گریز کررہے ہیں کیوں کمپنی بہت جلد 5 جی مارکیٹ میں متعارف کروانے والی ہے جس کے بعد ہواوے دنیا کی سب سے بڑی ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی بن جائے گی۔

واضح رہے کہ امریکی حکام گزشتہ کئی برسوں سے ہواوے کے بانی رین زینگ فائی کو سابقہ فوجی انجینئر ہونے کے باعث کمپنی کو خطرہ سمجھتے رہے ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں