The news is by your side.

Advertisement

سیکڑوں گلے کٹے آوارہ کتے برآمد، مقاصد کیا تھے؟

ماسکو: روس میں سیکڑوں آوارہ کتے مردہ حالت میں برآمد ہونے پر جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنان سیخ پا ہوگئے اور انتظامیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق روسی شہر یاکوشت میں مردہ حالت میں پائے گئے سیکڑوں کتوں کو ذبح کیا گیا۔ جبکہ ردعمل میں جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں بھی متحرک ہوگئیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے جراثیم یا پھر کسی بھی قسم کے مرض سے بچنے کے لیے مذکورہ کتوں کو مارا گیا۔ اس کی وجہ کروناوائرس کی روک تھام بھی ہوسکتا ہے البتہ اس حوالے سے کوئی حتمی وجہ سامنے نہیں آئی۔

دو کنٹینر سے سیکڑوں آوارہ کتے اور بلیاں مردہ حالت میں پائی گئیں جن کے گلے پر تیز دھار آلے سے کاٹے جانے کے نشانات ہیں۔ اس سے متعلق ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوچکی ہے۔

سماجی کارکنان کا کہنا ہے کہ اگر جانوروں میں کوئی جراثیم پایا جاتا ہے تو اسے مذکورہ مرض سے پاک کیا جائے نہ کہ انہیں موت کے گھاٹ اتارا جائے، یہ انتظامیہ کی نااہلی ہے۔

جانوروں کے حقوق سے متعلق قائم کی گئیں متعدد تنظیموں نے اس عمل کو غیرقانونی قرار دے دیا۔

یاکوشت شہر کی خاتون میئر نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کا اس عمل سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں