The news is by your side.

Advertisement

’’عزیر بلوچ پولیس میں جانا چاہتا تھا، غلط راستے پر لگانے والوں کو بھی سزا ملنی چاہیے‘‘

اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے بحری امور علی زیدی نے کہا ہے کہ عزیر بلوچ نے دبئی میں ملاقات کر کے اپنی کہانی سنائی اور بتایا کہ وہ پولیس میں جانا چاہتا تھا۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام ’اعتراض ہے‘ میں میزبان عادل عباسی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے بتایا کہ عزیر بلوچ سے دبئی میں ملاقات ہوئی جس میں اُس نے اپنے بارے میں تفصیلی بتایا۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’ملاقات میں عزیر بلوچ نے بتایا کہ وہ پولیس میں جانا چاہتا تھا مگر اُس کے والد کو ارشد پپو نے قتل کرایا جس کے بعد وہ دوسری راہ پر چل پڑا، جس نےعزیربلوچ کو غلط راستےپرلگایا ان کوبھی سزا ملنی چاہیے‘۔

مزید پڑھیں: عزیر بلوچ کی جے آئی ٹی پہلی بار منظر عام پر، سیکڑوں‌ قتل کا اعتراف

علی زیدی کا کہنا تھا کہ ’عزیر بلوچ نے بیان حلفی میں آصف زرداری اور فریال تالپور کا نام لیا ہے، اسمبلی میں جو باتیں کیں اُن پر قائم ہوں، پیر کو جے آئی ٹی ریلیز ہوجائے تو پھر اس پر مزید بات کریں گے‘۔

’عزیربلوچ کو غلط راستے پر لگانے والے آج بجٹ تقریریں کرتے ہیں،سزا اور جزا کا قانون ہوتا ہےجس پر عمل درآمد ضروری ہے، ذوالفقارمرزا نے سچ بول کر ان کو بے نقاب کیا‘۔

علی زیدی کا کہنا تھا کہ ’رکن قومی اسمبلی قادر پٹیل کا نام جے آئی ٹی میں شامل ہے، وہ چیلنج دینے سے پہلے اس بات کا جواب دیں کیونکہ عزیر نے اعتراف کیا کہ قادر پٹیل کے کہنے پر رزاق کمانڈو کو قتل کیا‘۔

یہ بھی پڑھیں: لیاری گینگ وار کے سرغنہ کا حلفیہ بیان سامنے آ گیا

اُن کا کہنا تھا کہ ’میرے پاس جو جے آئی ٹی ہے اس کی کاپی 3،4 لوگوں کو دے چکا ہوں، یہ لوگ توقتل کرانے میں ماہر ہیں اگر مجھے کچھ ہوا تو جن کو کاپی دی وہ خود ریلیز کردیں گے،  پی پی کو جواب دینا ہوگا کہ خالدشہنشاہ کوکس نےقتل کرایا‘۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ’سندھ کے ضلع کا ایک ایس پی ڈاکٹر رضوان رپورٹ پیش کررہا ہے کہ سعید غنی کا بھائی منشیات فروشی میں ملوث ہے،

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں