The news is by your side.

Advertisement

کرونا وائرس، تین ہفتوں تک کوما میں رہنے والے ڈاکٹر کی صحت یابی کے بعد چونکا دینے والی گفتگو

برسلز: کرونا وائرس سے کا شکار ہونے کے بعد کوما سے صحت یاب ڈاکٹر نے کہا ہے کہ ایک موقع پر میرا دماغ یہ سوچ رہا تھا کہ شاید میں اب کبھی جاگ نہیں سکوں گا۔

مائی میل کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر انتوئنی سسین کرونا وائرس سے اس قدر متاثر ہوئے کہ انہیں سانس لینے کے لیے مشین کی ضرورت پیش آئی اور پھر وہ کوما میں چلے گئے۔

رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر انتوئنی برسلز کے ڈیلٹا چیرک اسپتال میں زیر علاج تھے، وہ تین ہفتے تک کوما میں وینٹی لیٹر پر رہے۔

صحت یابی پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے انتوئنی کا کہنا تھا کہ ’میں اپنی زندگی کا اختتام دیکھ رہا تھا، مجھے محسوس ہوتا تھا کہ آخری وقت قریب آگیا اور اب میں دوبارہ کبھی ہوش میں نہیں آؤں گا‘۔

انہوں نے کہا کہ یہ تجربہ میرے لیے بہت زیادہ وحشت ناک تھا، میں نے کوما کے دوران اپنے والد کو دیکھا اور ان سے باتیں کیں جو چار برس قبل انتقال کر گئے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ ایک موقع پر ایسا احساس بھی ہوا کہ شاید اب میں کبھی جاگ نہیں سکوں گا اور آئندہ کی زندگی اسی طرح بے ہوشی کی حالت میں گزرے گی، میں سب کو سن سکتا تھا مگر چاہتے ہوئے بھی بولنے سے قاصر تھا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ڈاکٹر کی عمر 58 سال ہے، وہ خود کرونا کے مریضوں کا علاج کررہے تھے جس کے دوران انہیں علامات ظاہر ہوئیں اور پھر چند گھنٹوں میں ہی اُن کی حالت تشویشناک ہوگئی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں