The news is by your side.

Advertisement

ابنِ بطوطہ: مسجدِ نبوی اور منبرِ رسولﷺ کی زیارت کا احوال

ابن بطوطہ سے کون واقف نہیں۔ اس سیاح اور مؤرخ نے 1304 عیسوی میں مراکش کے ایک گھرانے میں آنکھ کھولی۔ اس دور کے دستور کے مطابق لکھنا پڑھنا سیکھا اور بنیادی تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ خاص طور پر تاریخ اور جغرافیہ کی تعلیم حاصل کی۔

سیر و سیاحت کے شوق کے باعث ابنِ بطوطہ نے صرف 22 برس کی عمر میں گھر چھوڑ دیا اور حج کی سعادت حاصل کرتے ہوئے دنیا کے مختلف ملکوں میں قیام اور سیاحت کا شوق پورا کیا۔

آج جشنِ ولادتِ رسولﷺ منایا جارہا ہے۔ اسی مناسبت سے ابو عبداللہ محمد المعروف ابن بطوطہ کے سفر نامے سے حجِ بیتُ اللہ اور مدینہ میں ان کی حاضری کا مختصر احوال پیش ہے۔

ابنِ بطوطہ نے مسجدِ نبوی اور روضۂ رسولﷺ کے پاکیزہ و منور، معطر و روشن نظاروں اور مقدس مقامات کی بابت لکھا:

مسجدِ معظم مستطیل ہے اور اس کے چہار اطراف سے سنگین فرش گھومتے ہوئے ہیں۔ اس کے وسط میں ایک صحن ہے جس پر کنکریاں اور ریت بچھی ہوئی ہے۔ مسجد کے گرد ایک سنگین فرش کا گھوما ہوا راستہ ہے جس کا پتھر ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے اور روضۂ اقدس قبلہ کی طرف مسجدِ مکرم کے مشرقی جانب سے ملا ہوا ہے۔

روضے کی شکل ایسی نادر کہ اس کی مثال ملنا ناممکن ہے۔ پتھروں کا جڑاؤ نہایت نادر و پاکیزہ اور مصفا و شگفتہ ہے۔ امتددادِ زمانہ کے باوجود اس کے استحکام میں فرق نہیں آیا ہے۔

یہیں لوگ عرضِ سلام کے لیے روئے مبارک کی طرف رخ کرکے اور پشت بہ قبلہ ہو کر کھڑے ہوتے ہیں۔

منبر مبارک کا ذکر کرتے ہوئے ابنِ بطوطہ نے لکھا:

منبر نبویﷺ کی تین سیڑھیاں تھیں جس میں سب سے اوپری پر سرورِکونین تشریف فرما ہوتے اور پائے مبارک وسط کی سیڑھی پر رکھتے۔

مسجدِ نبویﷺ کے خادمین اور مؤذن خوش لباس اور پاکیزہ صورت ہیں۔ ان سب کے اعلیٰ نگراں کو شیخ الخدام کہا جاتا ہے۔ ان کے لیے مصر اور شام سے وظائف ملتے ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں