The news is by your side.

Advertisement

بغداد کے عظیم خطّاط ابنِ مقلہ کا تذکرہ

عرب ثقافت میں تحریر کی پاکیزگی کو روح کی پاکیزگی کہا جاتا ہے اور تمام اسلامی ممالک میں فنِ خطّاطی کو ایک امتیاز اور بلند درجہ حاصل ہے اور اسے باعثِ برکت و اعزاز سمجھا جاتا ہے۔ ابنِ مقلہ ایک نادرِ روزگار اور ماہرِ فنِ تحریر تھا جس نے دورِ‌ خلافتِ عباسیہ میں بڑا نام و مقام پایا۔

مؤرخین اس بات پر متفق ہیں کہ عرب دنیا میں خطاطی کو پہلی مرتبہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں سے مالا مال کرنے والے بغداد کے تین ماہرینِ فن تھے جن میں سے ایک عباسی دربار سے وابستہ ابن مقلہ ہیں۔ اکثریت کے نزدیک ابنِ مقلہ اس فن کے بانی ہیں جنھوں نے چھے مختلف طرزِ تحریر متعارف کروائے۔

تاریخ کے صفحات بتاتے ہیں کہ ابنِ مقلہ 886ء میں‌ پیدا ہوئے اور 940ء میں وفات پائی۔ وہ عباسی دربار میں‌ وزیر رہے اور ایک ماہر خطاط کی حیثیت سے اپنے دور میں بڑی عزّت اور مقام پایا۔ ان کا مکمل نام ابوعلی محمد بن علی بن الحسین بن مقلہ تھا۔ ابن مقلہ نے علومِ متداولہ کی تعلیم حاصل کی تھی۔ فقہ، قرأت، تفسیر اور عربی ادب میں ماہر تھے۔ انشاء اور کتابت و مراسلت پر زبردست گرفت تھی۔

بغداد میں جب ان کی قابلیت کے جوہر کھلے تو دربار سے عوام تک ان کی بڑی عزّت اور قدر کی گئی۔ دربارِ اکبری کے مشہور مؤرخ ابو الفضل نے اکبر نامہ میں لکھا ہے کہ ابن مقلہ نے آٹھ خطوط ایجاد کیے جن کا رواج ایران، ہندوستان، بلادِ روم اور توران میں ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں