The news is by your side.

Advertisement

وبا کے دوران وزیر صحت کا افطار ڈنر، تیمور جھگڑا سمیت 3 افراد پر مقدمہ درج

پشاور: کرونا وبا کے دوران خیبر پختون خوا کے وزیر صحت کی جانب سے کارکنان کے اعزاز میں افطار ڈنر اور ایس او پیز کی شدید خلاف ورزی پر تیمور سلیم جھگڑا، ریسٹورنٹ منیجر اور مالک پر مقدمہ درج کر دیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز پشاور میں کرونا وبا کے باوجود صوبائی وزیر صحت تیمور سلیم جھگڑا کی جانب سے کارکنوں کے اعزاز میں افطار ڈنر کا اہتمام کیا گیا، یہ تقریب ان کے حلقہ انتخاب میں واقع ریسٹورنٹ میں منعقد کی گئی، جب کہ کارکنوں کو افطاری کی دعوت سوشل میڈیا پر دی گئی تھی۔

افطار میں کارکنوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی تھی، افطار کے موقع پر سماجی فاصلے کا کوئی خیال نہیں رکھا گیا، کارکن صوبائی وزیر صحت کے ساتھ سیلفیاں بھی بناتے رہے۔

خیال رہے کہ این سی او سی کے فیصلے کے مطابق ریسٹورنٹ میں کھانوں کی فراہمی پر پابندی ہے، تاہم صوبائی وزیر صحت کی ہدایت پر ریسٹورنٹ کو خصوصی طور پر کھولا گیا تھا، ادھر صوبائی دارالحکومت میں بھی ایس او پیز پر عمل درآمد کے لیے انتظامیہ نے پاک فوج کی خدمات حاصل کی ہیں۔

ایس او پیز کی خلاف ورزی پر ضلعی انتظامیہ پشاور کی جانب سے وزیر صحت تیمور سلیم جھگڑا سمیت حجرہ ریسٹورنٹ کے منیجر اور مالک کے خلاف کارروائی کے لیے پولیس کو مراسلہ جاری کیا گیا، کمشنر عادل ایوب کی درخواست پر تینوں کے خلاف مقدمہ درج کر دیا گیا۔

واضح رہے کہ افطار ڈنر کی خبر سوشل میڈیا پر بھی چل رہی تھی، جس پر ضلعی انتظامیہ پشاور نے فوری نوٹس لیتے ہوئے کارروائی کی، انتظامیہ کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر تصاویر اور خبر وائرل ہوئی تھی کہ حجرہ ریسٹورنٹ میں وزیر صحت تیمور سلیم جھگڑا سمیت سیکڑوں افراد افطاری کر رہے ہیں، جس پر ضلعی انتظامیہ کی ٹیم نے ریسٹورنٹ پر چھاپا مارا۔

دریں اثنا، ضلعی انتظامیہ نے حجرہ ریسٹورنٹ کو سیل  کر دیا، انتظامیہ کا کہنا تھا کہ کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں، ریسٹورنٹ کے منیجر نے بتایا کہ انھوں نے وزیر صحت کو منع کیا تھا کہ ریسٹورنٹ کے اندر کھانا کھلانے پر پابندی ہے، جس پر شرکا اپنے ساتھ باہر سے کھانا لائے۔

ضلعی انتظامیہ پشاور نے کہا کہ ایس او پیز کی خلاف ورزی پر ضلعی انتظامیہ پشاور بلا تفریق کارروائیاں کر رہی ہے، وزیر صحت، حجرہ ریسٹورنٹ کے مالک اور منیجر کے خلاف بھی قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں