The news is by your side.

Advertisement

اے اور او لیول کے امتحانات منسوخ کرنے سے متعلق درخواست پر فیصلہ سنادیا گیا

اسلام آباد : اسلام آباد ہائی کورٹ نے اے اور اولیول فزیکل امتحانات لینے کے خلاف درخواست ناقابل سماعت قرار دے دی اور کہا بہتر یہی ہوگا کہ معاملے کو این سی او سی کے پاس لے جایا جائے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں اے اوراو لیول کے امتحانات کےخلاف طلباکی درخواستوں پر سماعت ہوئی ، چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ کوئی ہدایت جاری نہیں کر سکتے ، درخواست این سی او سی کوبھیج دیتے ہیں ، عدالتوں کا کام نہیں کہ ملک کے پالیسی معاملات میں مداخلت کریں ، کورونا پراین سی او سی کےپالیسی فیصلوں میں مداخلت نہیں کی۔

جسٹس اطہر من اللہ کا ریمارکس میں کہنا تھا کہ حکومت پاکستان کیمبرج کو کوئی ہدایت جاری نہیں کر سکتی ، حکومت امتحانات سےمتعلق یہاں سہولت فراہم کرتی ہے۔

عدالت نے استفسار کیا کیاآپ چاہتے ہیں حکومت ان کوامتحان لینے سےروک دے؟ جس پر وکیل درخواست گزار نے کہا درخواست میں کوئی ایسی چیز نہیں جو کیمبرج کی پالیسی نہ ہو، میری درخواست کیمبرج کےخلاف نہیں کیمرج نے 2آپشن دیے، سعودی عرب، تھائی لینڈ، بھارت نےفزیکل کی بجائے آن لائن امتحان کواپنایا ۔

عدالت نے کہا پٹیشن میں 9درخواست گزارہیں ہوسکتاہےباقی ہزاروں فزیکل امتحان دیناچاہتے ہوں، چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ 9پٹشنر ہزاروں طلبہ کے نمائندے تو نہیں ہو سکتے،بچے امتحانات نہیں دینا چاہتے؟ کیسےطلباہیں جو امتحان نہیں دینا چاہتے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے دلائل سننے کےبعد اے اور او لیول کے فزیکل امتحانات کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے اےاوراولیول فزیکل امتحانات لینےکےخلاف درخواست ناقابل سماعت قرار دے دی، چیف جسٹس اسلام آبادہائی کورٹ نے 4 صفحات پر مشتمل محفوظ فیصلہ جاری کیا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ اسکولوں اوردیگر معاملات سےمتعلق معاملات این سی او سی کے پاس ہیں، بہتر یہی ہوگا کہ معاملے کو این سی او سی کے پاس لے جایا جائے ، امتحانات سےمتعلق درخواستوں پرفیصلےکےلیےعدالتی فورم متعلقہ نہیں۔

اسلام آبادہائی کورٹ نےابتدائی سماعت کے بعد درخواست خارج کرتے ہوئے کہا عدالت ایکسپرٹ نہیں ہے ، ملک میں اس وقت کووڈ 19 کے معاملات این سی او سی نے دیکھنے ہیں۔

دوسری جانب سندھ ہائی کورٹ میں اے اوراو لیول کےامتحانات کے خلاف طلباکی درخواستوں پرسماعت جاری ہے ، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ لاہور ہائی کورٹ نے تاحال فیصلہ نہیں دیا، ہائی کورٹ کے فیصلے کا انتظار کرلیاجائے، الیسی کامعاملہ ہے، وفاقی حکومت نے فیصلہ کیا ہے۔

جس کے بعد عدالت نے کیمبرج کےوکیل کو دلائل دینے کا حکم دیا ، وکیل کیمبرج نے کہا درخواستیں قابل سماعت نہیں، وفاقی وزرات تعلیم نےامتحانات کے ایس اوپیزترتیب دیےہیں، برٹش کونسل کوبھی ایس او پیز سے آگاہ کردیا گیا ہے، کیمبرج کورونا ایس او پیز سے مطمئن ہے۔

وکیل کا کہنا تھا کہ کوروناسےمتعلق کراچی کے حالات لاہور سے بہتر ہیں، کراچی میں امتحان ہوالاہور میں نہیں تو لاہورکے بچے پیچھے رہ جائیں گے، جس پر عدالت نے استفسار کیا کیا امتحانات ایک صوبے میں ہو سکتے ہیں؟ تو وکیل کیمبرج نے بتایا کہ امتحانات ملک بھر میں ایک ساتھ ہی کریں گے، جو بچے بیمار  ہوں گے ان کےلیےدیگرآپشنز کےذریعےسہولت دیں گے اور جوبچے اس بار رہ جائیں گے ان سے اکتوبراور نومبر میں امتحان لیاجائے گا۔

کیمبرج کے وکیل نے مزید کہا کہ ہم کسی بچے سے کورونا سرٹیفیکٹ تک نہیں مانگیں گے، بچوں کو مکمل سہولت دینے کو تیار ہیں، ایک ہائیکورٹ نے امتحانات  کی اجازت دی اوردوسری نے نہیں تو مشکل ہوجائے گی ،پاکستان کے حالات بھارت سے بہت بہتر ہیں، امتحانات ملتوی کرنے سے متعلق بھارت کو فالو  کرنے کی ضرورت نہیں۔

وکیل کا کہنا تھا کہ جوطلبااکتوبرنومبرمیں آئیں گےان سے اضافی فیس نہیں لی جائے گی، پاکستان کو اپنے حالات کے مطابق فیصلہ کرناہے، ہم یو اے ای یا بھارت کودیکھ کو فیصلہ نہیں کریں گے۔

کیمرج وکیل نے مزید بتایا کہ پشاور ہائی کورٹ میں برٹش کونسل نے جواب جمع کرایا ہے، برٹش کونسل نے یقین دلایا ہے کہ ایس او پیز پر عمل کریں گے، ہم ہر طریقے سے طالب علموں کو سہولت دے رہے ہیں، سندھ میں 18ہزار طلبا اور ملک بھر میں ان کی تعداد85 ہزار ہے۔

وکیل کیمبرج کا کہنا تھا کہ جو بچہ امتحان کے باوجودذہنی طورپرتیار نہیں اس کےلیےالگ آپشن ہے، ذہنی طور پر دباؤ والا بچہ چاہے تودوبارہ امتحان دے سکے گا، ایسے بچے اکتوبر، نومبر میں بھی دوبارہ امتحان دے سکیں گے، وکیل کیمبرج

عدالت نے این سی اوسی کی پالیسی پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو دلائل دینے کی ہدایت کی ، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ وفاقی حکومت نےبہت سوچ سمجھ کرپالیسی بنائی، سندھ میں 30ہزار اسٹوڈنٹس کے امتحانات ہیں، ایک سینٹرمیں زیادہ سے زیادہ50 بچے ہوں گے ، این سی اوسی نے بہت غورکے بعد فیصلہ کیا۔

نمائندہ وفاقی حکومت نے استدعا کی کہ ان درخواستوں کومستردکیاجائے، لاہور،پشاورہائیکورٹ کےبعد یہ عدالت بھی درخواستیں مسترد کرے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں