تازہ ترین

صدرمملکت آصف زرداری سے سعودی وزیر خارجہ کی ملاقات

صدر مملکت آصف علی زرداری سے سعودی وزیر خارجہ...

خواہش ہے پی آئی اے کی نجکاری جون کے آخر تک مکمل کر لیں: وفاقی وزیر خزانہ

اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا...

وزیراعظم شہباز شریف سے سعودی وزیر خارجہ کی ملاقات

اسلام آباد : وزیراعظم شہبازشریف نے سعودی وزیر...

سعودی وفد آج اسلام آباد میں اہم ملاقاتیں کرے گا

اسلام آباد : سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن...

فیض آباد دھرنا : انکوائری کمیشن نے فیض حمید کو کلین چٹ دے دی

پشاور : فیض آباد دھرنا انکوائری کمیشن کی رپورٹ...

آنکھیں بند کرکے غیر قانونی عمل پرخاموش نہیں رہوں گا، چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کے عمران خان کی گرفتاری پر ریمارکس

اسلام آباد : اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈی جی نیب اورپراسیکیوٹرجنرل نیب کو طلب کرلیا اور کہا آنکھیں بند کرکے غیرقانونی عمل پرخاموش نہیں رہوں گا۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد کیس کی سماعت دوبارہ شروع ہوئی، چیف جسٹس نے استفسار کیا سیکریٹری داخلہ موجودکیوں نہیں ہیں، 15منٹ کاوقت دیاتھا45منٹ گزر گئے۔

چیف جسٹس اسلام آبادہائیکورٹ کا کہنا تھا کہ عدالت کےساتھ مذاق بندکیاجائے، آئی جی پولیس روسٹرم پرآجائیں،آئی جی اسلام آباد نے بتایا کہ نیب نےعمران خان کوگرفتارکیاوارنٹ میرےپاس موجودہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ جس پر نیب نےگرفتار نہیں کیا، ،سلمان صفدر ایڈووکیٹ نے بتایا کہ عمران خان کوتشدد کرکے گرفتار کیا گیا ہے ، عمران خان کیساتھ بیرسٹرگوہرعلی بھی تشدد کا شکار ہوئے، تو چیف جسٹس نے جواب میں کہا کیا۔

دوران سماعت ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ بھی اسلام آبادہائیکورٹ پہنچ گئے،چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے عدالت کیساتھ یہ کیامذاق کیا جارہا ہے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ نیب ایک غیرجانبدارادارہ ہے۔

جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ نیب غیر جانبدار ادارہ ہے تو رینجرز وزارت داخلہ کے انڈر ہے، وفاق اپنی ذمہ داریوں سے بھاگ نہیں سکتا، آنکھیں بند کرکے غیرقانونی عمل پرخاموش نہیں رہوں گا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ گرفتاریوں کے حوالے سے قانون واضح ہے، اس بارہائیکورٹ پرحملہ کرکےگرفتاری عمل میں لائی گئی، ہائیکورٹ کےانسٹیٹیوشن برانچ میں توڑپھوڑ کی گئی ہے۔

انھوں نے مزید ریمارکس دیئے کہ میں اس واقع پر سمجھنا چاہتا ہوں، ذمہ داروں کا تعین کیا جائے گا، گرفتاری کیلئے کیا ہائیکورٹ ہی ملی تھی تو یڈیشنل اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ہم باہرگرفتارکرتے تو مزاحمت زیادہ ہوتی۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آج جوعمل ہواقابل معافی نہیں ،میں اسکی تہہ تک جاؤں گا، ڈی جی نیب اورپراسیکیوٹرجنرل نیب آدھے گھنٹے میں پیش ہوں۔

چیف جسٹس نے ڈپٹی رجسٹرار جوڈیشل کو حکم دیتے ہوئے کہا اس کیس پرمزید سماعت آدھے گھنٹے بعد دوبارہ کی جائےگی۔

Comments

- Advertisement -