The news is by your side.

Advertisement

وکلا تشدد کیس: عدالت عالیہ کا بڑا فیصلہ، سائیلین پریشان

اسلام آباد: گذشتہ روز وکلا کے پرتشدد مظاہرے، توڑپھوڑ اور چیف جسٹس اسلام آباد سے بدتمیزی کے بعد عدالت عالیہ نے بڑا فیصلہ کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللہ کے حکم پر ہائیکورٹ اور ڈسٹرکٹ کورٹ کو بند کردیا گیا ہے اور آج ہونے والی سماعتیں ملتوی کردی گئیں ہیں، کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لئے عدالت عالیہ میں قانون نافذ کرنےوالے اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایمبولینس اور بکتربند گاڑیاں موجود ہیں، ہائی کورٹ جانے والے تمام راستوں کو بند کردیا گیا ہے جبکہ ہائیکورٹ میں عام شہری اور سائل کےداخلےپر مکمل پابندی  عائد کردی گئی ہے۔

دوسری جانب آج چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللہ اسلام آباد کی عدالتیں بند یا کھولنےکےحوالے سےفیصلہ کریں گے۔

واضح رہے کہ گذشتہ روز اسلام آباد کچہری میں چیمبرز گرانے کے خلاف وکلا نے چیف جسٹس کے چیمبر سمیت رجسٹرار برانچ کو کھنڈرات میں تبدیل کردیا تھا، مشتعل وکلا نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں توڑ پھوڑ کی، کشیدہ صورت حال کے باعث چیف جسٹس اسلام آباد کئی گھنٹوں تک اپنے چیمبرز میں محصور رہے۔

یہ بھی پڑھیں:  اسلام آباد ہائی کورٹ میں مشتعل وکلاء کی تھوڑ پھوڑ ، چیف جسٹس کا بڑا حکم

مشتعل وکلا کا کہنا تھا کہ اگر کچہری میں غیر قانونی چمبر گرائے گئے ہیں تو چیف جسٹس کا چمبر بھی تہس نہس کریں گے، کوریج کے دوران اے آر وائی نیوز نمائندہ خصوصی جہانگیر اسلم بلوچ کو بھی زد وکوب کیا گیا، ہائیکورٹ میں موجود سیکیورٹی اہلکاروں نے جہانگیر اسلم کو وکلا کے چنگل سے بچایا اور ہائیکورٹ کے ڈسپنسری میں منتقل کیا۔

مشتعل مظاہرین سے جسٹس محسن اختر کیانی نے وکلا کو بار روم میں بیٹھ کر بات کی پیشکش، جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ بیٹھ کر بات نہیں کریں گے تو مسئلہ حل نہیں ہو گا، چیف جسٹس کے چیمبر سے ساتھیوں کو نکالیں تاکہ بات ہو سکے، اگر وکلا کو لگتا ہے ان سے زیادتی ہوئی تو بیٹھ کر ہمیں بتائیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں