The news is by your side.

Advertisement

پی ٹی آئی کی 3خواتین ارکان اسمبلی نااہل ہوں گی یانہیں؟ فیصلہ محفوظ

اسلام آباد : اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی کی تین خواتین ارکان قومی اسمبلی کی نااہلی سے متعلق درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں قائم مقام چیف جسٹس عامرفاروق نے پی ٹی آئی کی ارکان اسمبلی کے خلاف درخواستوں پر سماعت کی۔

دوران سماعت الیکشن کمیشن نے عدالت کے سامنے بیان میں کہا کہ کنول شوزب کی ووٹ ٹرانسفر کی کوئی درخواست نہیں آئی۔ کنول شوزب مس کنڈکٹ کی مرتکب پائی گئیں۔

وکیل کنول شوزب نے ووٹ ٹرانسفر میں ایک دن دو پٹیشنز دائر کرنے پر غیر مشروط معافی کی استدعا کی۔

وکیل الیکشن کمیشن نے کہا پانچ جون کو درخواست آئی تاہم وہ بھی ووٹ ٹرانسفر کی نہیں تھی، ہائی کورٹ میں دائر کی جانے والی دونوں پٹیشنز منگوا لیں، کنول شوزب کا کنڈکٹ 62 اور 63 کے تناظر میں دیکھا جائے، اگر کوئی رسید موجود ہے تو وہ فیک ہے صرف پانچ جون والی اصلی ہے۔

قائم مقام چیف جسٹس عامر فاروق نے کنول شوزب کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا پبلک آفس ہولڈر کا کنڈکٹ ٹھیک ہے، جس پر کنول شوزب کے وکیل نے جواب دیا کہ بالکل ایسی صورتحال میں ریلیف نہیں ملنا چاہیے تھا، مشروط معافی مانگنے کےلئے تیار ہیں۔

وکیل میاں عبدالروف نے مزید کہا ملائکہ بخاری کیس میں نامزدگی فارم جمع کرانے کی تاریخ اہم ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد پی ٹی آئی کی تین خواتین ارکان قومی اسمبلی کی نااہلی سے متعلق درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

یادرہے کہ ن لیگ کی ارکان قومی اسمبلی شائستہ پرویز اور طاہرہ بخاری نے پی ٹی آئی کی خواتین ارکان قومی اسمبلی کی نااہلی کے لیے درخواست دے دائر کررکھی ہے۔

درخواست گزار کے مطابق ایک نے ہائی کورٹ میں دوہری شہریت  کی غلط معلومات دیں تھیں، کاغذات نامزدگی کی آخری تاریخ تک ملائکہ بخاری دوہری شہریت رکھتی تھیں۔

درخواست میں کہا گیا تھا کنول شوزب نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ووٹ تبدیلی پر غلط بیانی کی، درخواست گزار نے استدعا کی کہ آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کے تحت ممبران کو نااہل کیاجائے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں