The news is by your side.

Advertisement

پنجاب میں گردوں کی غیر قانونی پیوند کاری میں مختلف گروہ سرگرم

اسلام آباد: سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کا کہنا ہے کہ گردوں کی غیر قانونی پیوند کاری کے خلاف اداروں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ اعضا کی غیر قانونی پیوند کاری معاشرے کا بہت بڑا ناسور ہے۔

تفصیلات کے مطابق اعضا کی غیر قانونی پیوند کاری سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے اسے معاشرے کا ناسور قرار دے دیا۔

سماعت میں پولیس نے رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروا دی۔ 53 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پنجاب کے بیشتر گاؤں میں گردوں کی غیر قانونی پیوند کاری میں ملوث مختلف گروہ سرگرم ہیں۔ گردہ دینے والے خود کو جعلی رشتے دار ظاہر کرتے ہیں۔

ایس ایس پی ساجد کیانی نے عدالت کو بتایا کہ پولیس کے پاس غیر قانونی پیوند کاری کرنے والے اداروں کے خلاف کارروائی کا اختیار نہیں۔

ان کے مطابق گردوں کی غیر قانونی خرید و فروخت روکنے کا آرڈیننس اسلام آباد میں لاگو نہیں ہوتا، اس کا اختیار ایف آئی اے کے پاس ہے۔

مزید پڑھیں: 18 لاکھ کے عوض گردہ ٹرانسپلانٹ

چیف جسٹس نے پولیس رپورٹ کی تعریف کرتے ہوئے اٹارنی جنرلز، چاروں صوبوں، گلگت اور کشمیر کے ایڈووکیٹ جنرلز کو نوٹس جاری کردیے۔

انہوں نے کہا کہ گردے دینے والے ڈونر نہیں، استحصال کا شکار ہیں۔

کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی گئی۔

اس سے قبل لاہور ہائی کورٹ میں دائر ایک درخواست کی سماعت کے دوران پنجاب ہیومن ٹرانسپلانٹ اتھارٹی کے ایڈمنسٹریٹر ڈاکٹر فیصل مسعود نے بتایا تھا کہ پنجاب کے بااثر افراد کے نجی اداروں میں بڑے پیمانے پر انسانی اعضا کی غیر قانونی پیوند کاری کا سلسلہ جاری ہے۔

ان کے مطابق اس حوالے سے متعلقہ تھانوں کے ایس ایچ اوز کے علم میں ہونے کے باوجود ان کے خلاف کوئی قانونی کاروائی نہیں کی جاتی۔

انہوں نے تجویز دی تھی کہ ایسے مشکوک افراد کو خفیہ پولیس کے ذریعے نگرانی کر کے ٹریس کیا جاسکتا ہے۔

بعد ازاں لاہور ہائیکورٹ نے انسانی اعضا کی غیر قانونی پیوند کاری کی روک تھام پر اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دینے کا حکم بھی دیا تھا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں