The news is by your side.

Advertisement

عمران خان کی کاوشیں رنگ لے آئیں، آئی ایم ایف کی ٹیم 29 اپریل کو پاکستان کا دورہ کرے گی

اسلام آباد: بیجنگ میں وزیراعظم عمران خان کی کاوشیں رنگ لے آئیں، عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی ٹیم نے تین روز بعد پاکستان کا دورے کا عندیہ دے دیا۔

وزارتِ خزانہ کے ترجمان کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق عالمی مالیاتی فنڈکی ٹیم رواں ماہ29اپریل کوپاکستان آئےگی، اُن کے دورےکامقصدآئی ایم ایف پروگرام پرپیشرفت کے لیے تکنیکی مذاکرات ہیں۔

ترجمان کے مطابق آئی ایم ایف سے مذاکرات کیلئےمعاشی فریم ورک پرجامع بات چیت اور تیاری کے حوالے سے متعلقہ حکام نے مشاورت کی۔  مذاکرات کے لیے متعلقہ ادارے،محکمےکی تیاری مکمل کر رہےہیں۔

ڈاکٹر خاقان نجیب کے مطابق مذاکرات کیلئےتوانائی،معاشی اصلاحات کی تیاری بھی کرلی گئی، جبکہ آئی ایم ایف کو سماجی شعبے کے احساس پروگرام پر بھی تفصیلی بریفنگ دی جائے گی۔

مزید پڑھیں: سی ای او ورلڈ بینک کا پاکستان کے ساتھ تعاون مزید مضبوط بنانے کا وعدہ، اعلامیہ جاری

دریں اثناء چین میں وزیر اعظم عمران کان کی آئی ایم ایف کی سربراہ کسٹین لیگارڈ سے ملاقات ہوئی جس میں عبدالحفیظ شیخ سمیت دیگر حکام بھی موجود تھے۔

مشترکہ اعلامیہ

وزیراعظم عمران خان کی آئی ایم ایف منیجنگ ڈائریکٹرسےملاقات کا مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں بتایاگیا ہے کہ ‘‘کرسٹیان لوگارڈسےبیلٹ اینڈروڈفورم کی سائیڈلائن پرملاقات ہوئی، ملاقات میں پاکستان اور آئی ایم ایف کےتعلقات کا جائزہ بھی لیا گیا‘‘۔

اعلامیے کے مطابق وزیر اعظم نےمعاشی اصلاحات پراقدامات سےآگاہ کیا، معیشت کےاستحکام،افراط زراورمالیاتی توازن پربریفنگ دی گئی، دونوں رہنماؤں نے آئی ایم ایف پروگرام کی اہمیت پر اتفاق کرتے ہوئے پاکستان میں اقتصادی استحکام کیلئےمشترکہ کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا جبکہ یہ بھی طے پایا کہ آئی ایم ایف کاوفد جلدپاکستان کادورہ کرےگا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کو ورلڈ بینک سے 6 سے 8 ارب ڈالر قرض ملنے کا امکان

وزیراعظم عمران خان نے چین کے دارالحکومت بیجنگ میں روڈ اینڈ بیلٹ فورم سے بھی خطاب کیا۔ جہاں دنیا بھر کے کاروباری اداروں کے چیف ایگزیکٹو افسران بھی شریک تھے۔

واضح رہے کہ سابق وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے 15 اپریل کو قوم کو خوشخبری سنائی تھی کہ آئی ایم ایف سے معاملات طے ہوگئے، ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کی معاشی پالیسی پر اطمینان کا اظہار کیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں