The news is by your side.

Advertisement

میرٹ پالیسی اپنانا ہوگی، چاہیے لوگ ناراض ہوجائیں، جسٹس منصور علی شاہ

لاہور: ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سید منصور علی شاہ نے کہا ہے کہ میرٹ پالیسی ہائی کورٹ سے ڈسٹرکٹ کورٹس تک یکساں رہے گی، چاہے لوگ ناراض ہوں، اس کی پرواہ نہیں ہونی چاہیئے۔

جوڈیشل اکیڈمی لاہور میں ججوں کی پروموشن کے بعد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس سید منصور علی شاہ نے کہا کہ انہیں ججز سے بڑی امیدیں وابستہ ہیں، تمام ججز کی پروموشن صرف میرٹ پر ہوئی ہے، خواہش ہے کہ خواتین بھی بڑی تعداد میں بطور جج بھرتی ہو۔

انہوں نے کہا کہ تمام کمیٹیوں اور عدلیہ کے شعبوں میں خواتین کو بھرپور نمائندگی دی جا رہی ہے، تمام ججوں کو ہائی کورٹ کی پالیسی کو ہی اپنانا ہوگا، میرٹ پالیسی ہائیکورٹ سے ڈسٹرکٹ کورٹس تک یکساں رہنا چاہیے۔

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے کہا کہ میرٹ کی پالیسی کو اپنا کر ادارے کو فوری طور پر مضبوط کیا جا سکتا ہے،اگر اس پالیسی پر عملدرآمد سے لوگ ناراض ہوں تو ان کی پرواہ نہیں ہونی چاہیئے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ قائداعظم کے تین اصول اتحاد، اتفاق اور نظم و ضبط پر ہر جج کو عمل پیرا ہونا چاہیئے، میری خواہش ہے لوگ کہیں کہ اگر اخلاق سیکھنا ہے تو آؤ جج دیکھیں، جج کا لباس، اخلاق اور برتاؤ لوگوں کے لئے مثالی ہونا چاہیئے۔

انہوں نے کہا کہ جج نوکری کو ٹی ٹوئنٹی نہ سمجھیں بلکہ یہ ٹیسٹ میچ ہے، ججوں کے لئے سپورٹس کلب بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ وہ چیف جسٹس ہو کر سائیکلنگ اور یوگا کرتے ہیں تو آپ لوگ کیوں نہیں کر سکتے، جج سپورٹس کھیلے گا تو ہی ڈپریشن میں فیصلے کر سکے گا۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں