The news is by your side.

Advertisement

خروج وعودہ پر سعودی عرب سے گئے غیرملکی ورکر سے متعلق اہم خبر

ریاض: سعودی عرب میں کفیل نے خروج وعودہ ویزے پر گئے اپنے غیرملکی ورکر کے حوالے سے محکمہ پاسپورٹ(جوازات) سے اہم وضاحت طلب کی ہے۔

عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق سعودی آجر نے جوازات سے استفسار کیا کہ گھریلو ملازم کا اقامہ تجدید کیا جس کے فوری بعد وہ 6 ماہ کی چھٹی لے کر وطن گیا جہاں پہنچ کر اس نے واپس آنے سے منع کردیا ہے، کیا اقامے کی فیس واپس ہوسکتی ہے؟ جس پر سعودی محکمہ پاسپورٹ نے وضاحت جاری کی۔

جوازات نے کہا کہ سعودی قانون کے مطابق اقامہ یا دیگر خدمات کے حصول کے بعد جمع شدہ فیس واپس نہیں لی جا سکتی، ایسا اسی وقت ہوتا ہے جب خدمات حاصل نہ کی گئی ہوں بصورت دیگر ممکن نہیں ہے۔

سعودی عرب نہ لوٹنے والے غیرملکی ‘بلیک لسٹ’

خیال رہے کہ اقامہ، خروج وعودہ یا فیملیز پر عائد ماہانہ فیس کی مد میں جوازات کے اکاؤنٹ میں جمع کرائی گئی فیس اس وقت تک واپس لی جاسکتی ہے جب تک مقررہ فیس کے عوض حکومتی خدمات حاصل نہ کی گئی ہوں۔

قبل ازیں ایک سوال پر سعودی محکمہ پاسپورٹ کا کہنا تھا کہ خروج عودہ پر جانے والے مقررہ وقت پر نہ لوٹیں تو وہ بلیک لسٹ کردیے جاتے ہیں، یعنی ان کا تین سال تک مملکت میں داخلہ ممنوع ہوگا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں