The news is by your side.

Advertisement

پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی بجٹ کیلیے اہم تجاویز

پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی جانب سے اقتصادی مشکلات سے نمٹنے، قومی معیشت کو فروغ دینے اور کیپٹل مارکیٹس کی ترقی کے حوالے سے وفاقی بجٹ 2022-23 کے لیے اہم تجاویز پیش کی گئی ہیں۔

تجاویز پر عمل درآمد کے ذریعے معیشت کو دستاویزی شکل دینے اور ٹیکس محصولات میں اضافے کے ساتھ ساتھ اہم سماجی مقاصد کو پورا کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ غور و خوض کرنے کے لیے ان تجاویز کو وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات، چیئرمین ایس ای سی پی، اور چیئرمین ایف بی آر، کوارسال کر دیا گیا ہے۔ کسی بھی جدید معیشت کے لیے ایک بڑی اور بہتر طور پر کام کرنے والی کیپٹل مارکیٹ کے بغیر موثر ترقی ممکن نہیں۔اسٹاک مارکیٹ معیشت کے سب سے زیادہ دستاویزی شعبوں میں سے ایک ہے۔

پاکستان میں ٹیکس کے دائرہ کار کو بڑھانے کے لیے ایف بی آر کی کوششوں کے تحت، اسٹاک مارکیٹ اور اس کے اسٹیک ہولڈرز، سرمایہ کار اور اِجرا کنندگان، سبھی بہترین دستاویزی حیثیت کے حامل ہیں اور متعلقہ ٹیکس قوانین کی تعمیل کرتے ہیں۔پی ایس ایکس کی جانب سے بجٹ تجاویز پیش کرتے ہوئے ان رکاوٹوں اور حوصلہ شکنی پر مبنی عوامل کی طرف توجہ دلائی گئی ہے جنھوں نے کیپٹل مارکیٹ، دستاویزی کارپوریٹ سیکٹر اور مجموعی معیشت کی ترقی میں رکاوٹیں کھڑی کی ہیں۔ ان تجاویز کے نفاذ سے ٹیکس ریونیو میں اضافے، سرمایہ کاری اور بچت کی حوصلہ افزائی اور اقتصادی ترقی میں مدد ملے گی۔

پی ایس ایکس نے 2022-23 کے لیے 11 بجٹ تجاویز پیش کیں خطے کے دیگر ایکسچینجوں اور OECD ممالک کے ساتھ سیکیورٹیز کے تصرف پر کیپٹل گین ٹیکس کی شرح اور غیر منقولہ جائیداد کی فروخت پر CGT کی شرح کو موافق بنانا۔ رجسٹرڈ سیونگز اینڈ انویسٹمنٹ اکاوٴنٹس (RSIA) اور انفرادی بچت اکاوٴنٹ (ISA) کا تعارف۔جب کمپنیاں لسٹنگ کے لیے اپلائی کریں تو جد محصول(Grandfather tax)کے معاملات ٹھیک کرنا، بجٹ تجاویز میں اسٹاک ایکسچینج میں درج کمپنیوں کے لیے ٹیکس کی شرح کو معقول بنانااور لسٹڈ کمپنیوں سے کم از کم ٹیکس نظام کا خاتمہ سمیت کارپوریٹس کے لیے ٹیکس لاگو کرنا شامل ہیں اس کے علاوہ خدمات پر صوبائی سیلز ٹیکس – دائرہ اختیار کے معاملات مشترکہ مفادات کونسل میں طے کرنا ہے۔

کیپٹل مارکیٹ کی نمو کے ذریعے معیشت کو فائدہ پہنچانے کے لیے جو بجٹ تجاویز پیش کی گئی ہیں، ان میں خطے کے دیگر ایکسچینجوں کے ساتھ سیکیورٹیز کے تصرف پر سی جی ٹی کی موافقت (alignment)اور غیر منقولہ جائیداد کی فروخت تاکہ مختلف اثاثہ جاتی طبقات (asset classes)کے درمیان ٹیکس پر مبنی بگاڑ کو بنیادی طور پر ختم کیا جا سکے، پیداواری سرمایہ کاری کی طرف چینل کی بچت میں مدد کرنے کے لیے RSIAs اور ISAs کا تعارف، کمپنی کی فہرست سازی کی درخواست کے موقع پر ٹیکس اسٹیٹس کو آسان بنانے کے لیے ماضی کے ٹیکس گوشواروں کے لیے کوئی نیا کیس نہیں کھولنا تاکہ کمپنیوں کو فہرست میں شامل کرنے کے سلسلے میں حوصلہ افزائی کی جاسکے۔

انکم ٹیکس آرڈیننس، 2001 کے منسوخ شدہ سیکشن 65C کی بحالی کے ذریعے لسٹڈ کمپنیوں کے لیے ٹیکس کی شرح کو معقول بنانا، جس میں فری فلوٹ کی مقررہ ضروریات کو پوراکرنے والی مخصوص کمپنیوں کو ٹیکس کریڈٹ کی اجازت دینے کے لیے ترمیم کی گئی، کاروباری اداروں کے ٹیکس کے عدم مساوات کو دور کرنے کے لیے کارپوریٹس کے لیے ٹیکس عائد کرنا اور گروپ ٹیکس کے لیے اہل کمپنیوں کے درمیان انٹر -کارپوریٹ ڈیویڈنڈ پر چھوٹ کی بحالی، سمیت دیگر اہم تجاویز شامل ہیں۔

وزارت خزانہ اور اہم متعلقہ حکومتی عہدیداروں کو پیش کی گئی بجٹ تجاویز کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ایم ڈی،پی ایس ایکس،جناب فرخ ایچ خان کا کہنا تھا کہ، ”کوئی بھی جدید معیشت بڑی اور بہتر طریقے سے کام کرنے والی کیپٹل مارکیٹ کے بغیر ترقی نہیں کرسکتی اور نہ ہی بچت اور سرمایہ کاری کی شرح کو بہتر بنا سکتی ہے۔
پاکستان میں اسٹاک مارکیٹ معیشت کا سب سے زیادہ دستاویزی شعبہ ہے لیکن پھر بھی اس کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ اثاثہ جاتی کلاسوں کے درمیان ٹیکس اور AML کی سنگین تحریفات ہیں جن کو معقول بنایا جانا چاہیے کیونکہ یہ وسائل کی موثر تقسیم کے لیے نقصان دہ ہیں۔ جیسے جیسے کیپٹل مارکیٹ بڑھے گی، معیشت کو دستاویزی شکل ملے گی اور ٹیکس ریونیو میں اضافہ ہوگا۔ ہم سبسڈی نہیں مانگتے؛ مگر کام کرنے کے لیے محض ایک ہموارراہ چاہتے ہیں۔

ایم ڈی، پی ایس ایکس کا مزید کہنا تھا کہ، ”ایک فرنٹ لائن ریگولیٹر کے طور پر، پی ایس ایکس یہ دیکھنے کا متمنی ہے کہ ٹیکس کے نظام میں ضروری اصلاحات نافذ کی جائیں تاکہ تمام اثاثہ جاتی طبقات کے ساتھ ٹیکس کے حوالے سے ایک جیسا سلوک ہو۔ اس سے وسائل کی موثر تقسیم، معیشت کے دستاویزی حیثیت کے حامل ہونے، ٹیکس ریونیو میں اضافے اور کیپٹل مارکیٹ کی ترقی میں مدد ملے گی، اس طرح ایک فروغ پزیر اور پھلتی پھولتی معیشت کی مضبوط بنیاد بنے گی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں