پاکستان میں فوج آئی تو لوگ مٹھائی تقسیم کریں گے، عمران خان -
The news is by your side.

Advertisement

پاکستان میں فوج آئی تو لوگ مٹھائی تقسیم کریں گے، عمران خان

میرپور: تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے جمہوریت کو خطرہ فوج سے نہیں نواز شریف کی ڈکٹیٹر شپ سے ہے، پاکستان میں فوج برسر اقتدار آگئی تو لوگ خوشی منائیں گے۔

Imran say democracy not threatened by Army but… by arynews
آزاد کشمیر میرپور کے علاقے اسلام گڑھ میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب نواز شریف باہر جاتے ہیں تو نواز شریف کی بیٹی وزیراعظم بن جاتی ہے اسی طرح وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف باہر جاتے ہیں تو ان کا بیٹا سی ایم بن کر بیٹھ جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ شریف خاندان کے اربوں روپے پاناما لیکس کی کمپنیوں کے پیچھے چھپے ہوئے ہیں ان کا احتساب کیا جائے، برطانیہ کا وزیراعظم استعفی دے گیا لیکن ہمارا وزیراعظم پارلیمنٹ کے سامنے آکر وضاحت تک نہیں دے رہا۔

انہوں نے نواز شریف پر مزید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اقتدار میں آنے اور اپنی چوری کے پیسے کو بچانے کے لیے الیکشن کمیش میں دھاندلی کرنے کی ضرورت پڑتی ہے،نواز شریف پر نیب کے تیرہ مقدمات ہیں، یہ کیسے ممکن ہے کہ میں کسی کو اپنا ملازم رکھوں اور وہ میرا احتساب کرے، اسی لیے نواز شریف نے نیب کا سربراہ اپنے چمچے کو بنایا ہوا ہے تو نیب کیسے وزیراعظم پر ہاتھ ڈال سکتی ہے جبکہ اسحق ڈار خود نواز شریف کے لیے منی لانڈرنگ کرتے تھے۔

انہوں نے قومی احتساب بیورو (نیب) پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ احتساب کا کیسا ادارہ ہے کہ کرپشن میں اضافہ ہورہا ہے،اصل میں نیب صرف چھوٹے لوگوں کو پکڑ رہا ہے بڑے مگرمچھوں کو نہیں، اگر صرف دس بڑے مگرمچھوں کو پکڑ لیا جائے تو کرپشن ختم ہوجائے گی اور ایک ہزار چھوٹے لوگوں کو پکڑنے سے کرپشن ختم نہیں ہوگی۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان میں فوج آجائے تو لوگ مٹھائیاں بانٹیں گے، خوشیاں منائیں گے، خدمت کرنے والی حکومت کے ساتھ عوام کھڑی ہوتی ہے تنگ کرنے والی کے ساتھ نہیں، اسی لیے ترکی میں جمہوریت بچانے کے لیے عوام سڑکوں پر نکل آئے، اصل میں جمہوریت کو نواز شریف سے خطرہ ہے،ترکی کے لوگوں کی طرح آپ لوگوں کو بھی اپنی جمہوریت بچانے کے لیے آگے آنا ہوگا۔

چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ حالیہ تین سال میں 6ہزار ارب روپے کا قرضہ قوم پر چڑھایا گیا، دس سال قبل پاکستان کا قرضہ پانچ ہزار ارب روپے تھا، اب ہر پاکستانی بچے پر ایک لاکھ بیس ہزار روپے کا قرضہ ہے جس میں مزید اضافہ ہوتا جارہا ہے،ترکی نے سب سے پہلے اپنے قرضے ختم کیے لیکن موجودہ حکومت قرضوں پر قرضے حاصل کرتی جارہی ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں