The news is by your side.

عمران خان کی براہ راست تقاریر پر پابندی کا پیمرا نوٹی فکیشن کالعدم قرار

اسلام آباد : عدالت نے پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کی براہ راست تقاریر پر لگنے والی پابندی کو ختم کردیا پیمرا کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن کو کالعدم قرار دے دیا گیا۔

اس حوالے سے اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کردیا ہے، اپنے فیصلے میں عدالت کا کہنا ہے کہ ٹی وی چینلز تاخیری نظام کے تحت ممنوعہ مواد کی نشر روکنے کے پابند ہیں۔

فیصلے کے مطابق پیمرا سپریم کورٹ کی ہدایات کی روشنی میں قانون پر عمل کرانے کا پابند ہے، اگر ممنوعہ مواد نشر ہوا تو پیمرا ٹی وی چینلز کے خلاف کاروائی کرسکتا ہے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے 3صفحات پرمشتمل فیصلہ جاری کیا ہے، واضح رہے کہ عمران خان نے پیمرا کے 20 اگست کے نوٹی فکیشن کو چیلنج کیا تھا۔

قبل ازیں پیر 29اگست کو گزشتہ سماعت میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کی براہ راست تقریر نشر کرنے پر عائد پابندی کا پیمرا کا نوٹی فکیشن 5 ستمبر تک معطل کردیا تھا۔

مزید پڑھیں : عمران خان کی براہ راست تقریر نشر کرنے پر پابندی عائد

چیئرمین پی ٹی آئی پر پابندی کا حکم نامہ جاری کرتے ہوئے پیمرا کا کہنا تھا کہ عمران خان اپنی تقریروں میں اداروں پر مسلسل بے بنیاد الزامات لگا رہے ہیں، عمران خان کی براہ راست تقاریر سے نقض امن پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ اداروں اور افسروں کے خلاف بیانات آرٹیکل 19 کی خلاف ورزی ہے، اس لیے عمران خان کی تقریر براہ راست نشر کرنے پر پیمرا آرڈیننس 2002 کے سیکشن 27 کے تحت پابندی ہوگی۔

اس کے علاوہ پیمرا اعلامیے میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے ایف نائن پارک میں ہونے والے جلسے کی تقریر کا حوالہ بھی شامل کیا گیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں