site
stats
اہم ترین

ایس ایس پی تشدد کیس: عمران خان کی انسداد دہشت گردی عدالت میں پیشی

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان ایس ایس پی تشدد کیس کی سماعت کے موقع انسداد دہشت گردی کی عدالت پہنچے جہاں انہوں نے بریت اور حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کردی۔

تفصیلات کےمطابق ایس ایس پی عصمت اللہ جونیجو تشدد کیس کی انسداد دہشت گردی عدالت میں سماعت ہوئی۔ سماعت میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے بریت کی درخواست دائر کردی۔

عمران خان کی جانب سے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست بھی دائر کی گئی۔ عدالت نے دونوں درخواستوں کی نقول پراسیکیوشن کو فراہم کرنے کی ہدایت کردی۔

عمران خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ فرد جرم عائد کرنے سے پہلے بریت کی درخواست پر فیصلہ کریں جس پر عدالت نے کہا کہ درخواست پر بحث کے لیے پراسیکیوشن کو نوٹس جاری کر رہے ہیں۔

وکیل نے استدعا کی کہ 26 فروری کو پی ٹی وی، پارلیمنٹ حملہ کیس کی سماعت بھی ہے اسی دن اس کیس کی سماعت بھی رکھ لیں جس پر عدالت نے وکیل کی استدعا منظور کرتے ہوئے سماعت 26 فروری تک ملتوی کردی۔

دوران سماعت عمران خان نے کہا کہ ایک آدمی سیاسی احتجاج کرے اور اس کے خلاف کیسز بن جائیں، یہ سراسر غیر جمہوری عمل ہے۔ عدالت نے کہا کہ ابھی حاضری سے استثنیٰ نہیں ملا تو آپ کو آنا پڑے گا۔


عدالت کے کتنے چکر لگائے اب بھول چکا ہوں

سماعت سے قبل عمران خان نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قانون ہم جیسوں کے لیے ہے۔ نواز شریف تو مغل اعظم ہے وہ کہتے ہیں مجھے کیوں نکالا۔

انہوں نے کہا کہ انسداد دہشت گردی عدالت کے کتنے چکر لگائے اب بھول بھی چکا ہوں۔ عدالت اس لیے آیا کہ ملک میں قانون کی بالا دستی قائم ہوسکے۔

انہوں نے مخالفین پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کروڑوں خرچ کر کے قیمے والے نان کھلا کر ووٹ لیے جا رہے ہیں۔ کٹھ پتلی وزیر اعظم سمیت یہ سب کرپشن میں ملوث ہیں۔ ’انہوں نے لودھراں میں کروڑوں روپے خرچ کر کے الیکشن جیتا‘۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ عوام کا کام ہے ووٹ دینا اور عدلیہ کا کام ہے انصاف دینا۔ چھوٹے میاں خادم اعلیٰ پولیس کے ذریعے لوگوں کو قتل کرواتا ہے۔

انہوں نے لودھراں الیکشن کے حوالے سے کہا کہ ایک نوجوان پہلی بار الیکشن لڑتا ہے اور 91 ہزار ووٹ لے لیتا ہے۔ ’ق لیگ کے 5 سال میں کتنی بار مسلم لیگ ن ضمنی انتخابات جیتی تھی۔ ق لیگ کے دور میں ن لیگ کا ایک ڈسٹرکٹ ناظم نہیں تھا‘۔

عمران خان نے مزید کہا کہ خبر آئی ہے پاکستان کو دہشت گردی کی واچ لسٹ میں ڈالا جا رہا ہے۔ اس سے بڑی خارجہ پالیسی کی ناکامی کوئی ہو نہیں سکتی۔ ’یہ سب پیسہ بنانے میں لگے ہیں، وزیر خزانہ ملک سے بھاگا ہوا ہے۔ ان کے پاس وقت ہی نہیں تھا کہ خارجہ پالیسی دیکھیں، حکمرانوں کی غفلت کی وجہ سے بھارت اپنے مقصد میں کامیاب ہو رہا ہے‘۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

loading...

Most Popular

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top